لیاری کی تنگ گلیوں سے جدید ٹیکنالوجی کی دنیا تک، فلم اور حقیقت میں واضح فرق
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
کراچی کی قدیم بستی لیاری ان دنوں ایک بار پھر موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے، جس کی وجہ بالی ووڈ کی فلم دھرندر ہے۔ اس فلم میں لیاری کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ لیاری کے عوام، خصوصاً نوجوان اس فلم کو سنجیدگی کے بجائے ایک لطیفے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس پر صرف ہنسا ہی جا سکتا ہے۔
آج کا لیاری گینگ وار اور منشیات کے حوالے سے نہیں بلکہ فٹبال اور ریپ کی وجہ سے پہچانا جا رہا ہے۔ لیاری کی ایک نئی شناخت تیزی سے ابھر رہی ہے، تاہم یہ اب تک دنیا تک اس طرح نہیں پہنچ سکی جیسا کہ پہنچنا چاہیے تھا۔
گینگ وار کے خوف کے سائے میں پل بڑھ کر جوان ہونے والی لیاری کی نئی نسل اب روبوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) جیسے جدید شعبوں میں نہ صرف اپنا بلکہ اپنے علاقے کا نام بھی روشن کر رہی ہے۔
دسمبر کی خنک صبح، تنگ گلیوں اور مصروف بازاروں سے گزرتے ہوئے جب ایک گلی میں واقع لیاری میں سن 2012 میں قائم بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی (بی بی ایس یو) کے ڈپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پہنچا گیا تو خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔
یونیورسٹی کی راہداریوں اور کلاس رومز میں موجود خوش باش، پُرجوش اور پُراعتماد نوجوان چہروں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہی وہ لیاری ہے جو کبھی دنیا بھر میں گینگ وار، تشدد اور منشیات کے باعث بدنام رہا ہے۔ مزید جانیے آصفہ ادریس کی اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ترقی فلم دھرندر گینگ وار لیاری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فلم دھرندر گینگ وار لیاری وی نیوز لیاری کی گینگ وار
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔