ٹیکنالوجی کے شائقین کے لیے خوشخبری ہے کہ سام سنگ کے متوقع فلیگ شپ فون Galaxy S26 Ultra کے رنگوں اور ڈیزائن کی تفصیلات افشا ہو گئی ہیں، تاہم اس سال ٹائٹینیم فریم شامل نہیں ہوگا، اور فون میں ایلومینیم فریم کے استعمال کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

لییک کے مطابق Galaxy S26 Ultra چار رنگوں میں دستیاب ہو سکتا ہے، بلیک شیڈو، وائٹ شیڈو، گیلیکٹک بلیو، اور الٹرا وائلٹ۔

یہ بھی پڑھیں:سام سنگ گلیکسی S26 الٹرا کا پرائیویسی فیچر لیک، ٹیک کمیونٹی میں ہلچل مچ گئی

دلچسپ بات یہ ہے کہ پچھلے ماڈل S25 Ultra کی طرح اس بار ٹائٹینیم شامل نہیں ہے، جس سے یہ قیاس آرائی سامنے آ رہی ہے کہ سام سنگ نے ٹائٹینیم فریم کو مکمل طور پر ختم کر کے ایلومینیم فریم اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈیزائن اور خصوصیات

نئے S26 Ultra کی ڈیزائن لینگویج پچھلے ماڈلز جیسی متوقع ہے، لیکن یہ خصوصی خصوصیات برقرار رکھے گا، جیسے S Pen سپورٹ، بہتر کیمرے، پرائیویسی ڈسپلے اور دیگر اضافی فیچرز۔

Galaxy S26 سیریز کے 3 فونز—S26، S26+، اور S26 Ultra—متوقع طور پر ایک ساتھ مارکیٹ میں آئیں گے۔ اطلاعات کے مطابق اس لانچ ایونٹ کی تاریخ 25 فروری، سان فرانسسکو رکھی گئی ہے اور فون کی ڈلیوری مارچ کے شروع میں متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سام سنگ نے جدید اے آئی فیچرز سے مزین گلیکسی ایس 25 ایف ای متعارف کرادیا، اہم خصوصیات کیا ہیں؟

یہ لیک سام سنگ کے شائقین کے لیے فون کے نئے رنگوں اور ڈیزائن کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے، خاص طور پر ان صارفین کے لیے جو جدید فلیگ شپ فونز میں ٹائٹینیم کے بجائے ہلکے اور ہیٹ ڈسپرس کرنے والے ایلومینیم فریم کو ترجیح دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Galaxy S26 Ultra سام سنگ گلیکسی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: گلیکسی کے لیے

پڑھیں:

کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار

کراچی:

شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔

ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔

متعلقہ مضامین