حضرت علیؑ قرآن و حدیث کے عظیم شارح تھے، ڈاکٹر طاہر القادری
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
بانی سربراہ تحریک منہاج القرآن کا یوم علیؑ کے موقع پر کہنا تھا کہ حضرت علیؑ کی تعلیمات انسانیت کیلئے روشن چراغ ہیں، حضرت مولا علیؑ علم، حکمت، شجاعت، عدل اور تقویٰ کا وہ جامع و کامل پیکر ہیں جن کی ذات اقدس نے اسلامی تہذیب و تمدن کی فکری بنیادوں کو مضبوط کیا۔ حضرت علیؑ کی تعلیمات آج بھی انسانیت کی فلاح اور معاشروں کی اصلاح کا روشن چراغ ہیں،یوم ولادت حضرت علیؑ منانے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں ، علم و حکمت کی روشنی میں ایک پر امن، عادل اور مصطفوی معاشرے کی تشکیل کریں۔ اسلام ٹائمز۔ بانی و سرپرستِ اعلیٰ تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے امیر المؤمنین سیدنا مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے یومِ ولادت کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ حضرت مولا علیؑ نے علم کو عمل سے، شجاعت کو اخلاق سے اور اقتدار کو عدل و خدمت سے جوڑ کر انسانیت کو قیادت کا وہ معیار دیا جو رہتی دنیا تک مشعل راہ ہے۔ حضرت مولا علیؑ قرآن و حدیث کے عظیم شارح تھے۔ آپ کی تعلیمات انسانیت کیلئے روشن چراغ ہیں، حضرت مولا علیؑ علم، حکمت، شجاعت، عدل اور تقویٰ کا وہ جامع و کامل پیکر ہیں جن کی ذات اقدس نے اسلامی تہذیب و تمدن کی فکری بنیادوں کو مضبوط کیا۔ حضرت علیؑ کی تعلیمات آج بھی انسانیت کی فلاح اور معاشروں کی اصلاح کا روشن چراغ ہیں۔ تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ولادت کا کیک کاٹا گیا۔ اس موقع پر کرنل(ر) خالد جاوید، نور اللہ صدیقی، قاضی فیض الاسلام، جواد حامد،علامہ لطیف مدنی، حفیظ الرحمان، سہیل احمد رضا، سعید احمد،طیب ضیا و دیگر رہنما موجود تھے۔
ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے بارہ ہزار سے زائد احادیثِ مبارکہ مروی ہیں، جو آپؑ کے بلند علمی مقام اور فہمِ دین کی واضح دلیل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہی مرویات پر مشتمل ’’مسند الامام علی‘‘ کے عنوان سے ایک جامع تحقیقی کتاب زیرِ تکمیل ہے اور یہ علمی و تحقیقی خدمت انجام دینے کی سعادت اللہ تعالیٰ نے تحریک منہاج القرآن کو عطا فرمائی ہے۔ طاہر القادری نے کہا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اہلِ بیتِ اطہار کے آفتابِ درخشاں اور قرآن و حدیث کے عظیم شارح تھے۔ آپؑ کی پوری زندگی محبت، امن، اخوت اور امت کے باہمی اتحاد کے فروغ میں گزری۔ اسلامی تاریخ حضرت علیؑ کی بے مثال جرأت، شجاعت اور ایمان افروز واقعات سے بھری پڑی ہے، جبکہ آپؑ کی سیرت کا ہر لمحہ رشد و ہدایت کے انمول اسباق لیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علیؑ کی عظمت کے اظہار کے لیے یہی بات کافی ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے ایک موقع پر آپؑ کا دستِ مبارک تھام کر ارشاد فرمایا: ’’جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے۔ اے اللہ! تو اُس سے محبت فرما جو علیؑ سے محبت کرے اور اُس سے عداوت رکھ جو علیؑ سے عداوت رکھے۔‘‘ یہ فرمانِ نبوی ﷺ حضرت علیؑ کے جداگانہ مقام و مرتبے کے بیان کیلئے کافی ہے۔
طاہر القادری نے کہا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اصحابِ رسولﷺ اور امتِ محمدیہؐ کو فتنوں، انتشار اور باہمی اختلافات سے محفوظ رکھنے کے لیے کردار ادا کیا۔ آپؑ کے اقوال، فرامین اور ارشادات قیامت تک علم، عرفان اور حق کی جستجو کرنے والوں کے دلوں کو سکون اور فکری رہنمائی فراہم کرتے رہیں گے۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہاکہ یوم ولادت حضرت علیؑ منانے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم ان کی تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں ، علم و حکمت کی روشنی میں ایک پر امن، عادل اور مصطفوی معاشرے کی تشکیل کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: طاہر القادری نے کہا تحریک منہاج القرا ن حضرت مولا علی روشن چراغ ہیں کی تعلیمات ا کہ حضرت علی انسانیت کی
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ