پی پی رہنماء کا ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگ تو مذاکرات چاہتے ہیں لیکن اس میں رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ رہنماء پیپلزپارٹی قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ تو مذاکرات چاہتے ہیں لیکن اس میں رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں، دونوں طرف ڈیڈ لاک ہے اس کی وجہ سے مجھے یہ عمل چلتا نظر نہیں آرہا۔ رہنماء پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ نے  پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں رکاوٹ خود  بانی پی ٹی آئی ہیں، پی ٹی آئی کے لوگ  تو مذاکرات چاہتے ہیں، پی ٹی آئی  سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کی اسپیس پیدا کرے۔ انہوں نے  کہا کہ دونوں فریق ڈیڈ لاک کے ذریعے اپنا راستہ نکالنا چاہتے ہیں تاہم مذاکرات  کا عمل چلتے ہوئے مجھے نظر نہیں آتا کیونکہ بانی کہتے ہیں کہ سیاستدانوں سے مذاکرات نہیں کرنے جبکہ ادارے ان سے مذاکرات کریں گے نہیں۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بانی کوئی حادثہ چاہتے ہیں، کوئی عوامی دباو اٹھے اور حکومت مجبور ہو جائے، سہیل آفریدی کو اس لیے لائے کہ یہ تصادم  زیادہ بہتر کریں گے، پی ٹی آئی والے  سب سے ہی تصادم چاہتے ہیں۔ رہنما پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے، میں نہیں سمجھتا کہ وہ حکومت کے لیے بڑا امتحان کھڑا کر سکیں گے، وہ حکومت نہیں بلکہ سیاست کے لیے بحران کھڑا  کر رہے ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوامی دباو نہیں بڑھا سکی اس لیے حکومت پر کوئی دباؤ نہیں، عوامی دباو سے حکومت پر دباؤ بڑھانے میں  پی ٹی آئی ناکام ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں مذاکرات ناگزیر ہیں، یہ طے ہے کہ مذاکرات نہ ہوں تو جمہوریت ڈی ریل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، مذاکرات سے  کب کسی نے انکار کیا ہے۔ رہنما پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ نے کہا کہ سندھ آنا یا ملک کے کسی بھی حصے میں جانا سہیل آفریدی کا حق ہے، ہماری حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ لاہور دورے میں جو گفتگو ہوئی وہ مناسب نہیں تھی ہماری جماعت کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے پی کو دورے کی دعوت ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قمر زمان کائرہ نے کہ پی ٹی آئی چاہتے ہیں نے کہا کہ

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف