ملک کے 5 بڑوں کے درمیان پراعتماد رابطے ہوں تو بہتر سمت میں بڑھ سکتے ہیں، راناثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ملک کے 5 بڑوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اقدامات اور رابطے ہوئے تو سیاسی طور پر بہتر سمت بڑھ سکتے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو افواج پاکستان اور ان کے سربراہان کے خلاف غلیط مہم فوری طور پر بند کردینی چاہیے۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ جن اکاؤنٹس سے افواج پاکستان اور ان کے سربراہان کے خلاف ہونے والی انتہائی غلیظ مہم جوئی فوری طور پر بند کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت یہ کہہ کر جان چھڑانا چاہے کہ ہمارا ان پر کوئی کنٹرول نہیں اور ہمیں نہیں پتا یہ کون ہیں تو ایسا نہیں ہے بلکہ ان کا کنٹرول ہے، اگر براہ راست عمران خان یا ان کی طرف سے جو پیغام جاتا ہے اور اس کے مطابق ٹوئٹ ہوتا ہے اور باقی چیزیں ہوتی ہیں تو پی ٹی آئی کو ان اکاؤنٹس سے پوری طرح لاتعلقی کرنی چاہیے اور اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور نے کہا کہ اگر انہوں نے گالیاں نکالنی ہیں اور اس قسم کا پروپیگنڈا کرنا ہے تو یہ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کے خلاف کرتے رہیں لیکن افواج اور ان کے سربراہان کے خلاف نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ ہم افواج پاکستان کے خلاف تو بات نہیں کرتے، ہم تو کسی فرد سے متعلق بات کرتے ہیں تو نہیں ایسا نہیں ہے، اگر آپ ایسا کریں گے تو وہ خدشات اور اثرات ویسے ہوں گے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ انہوں نے 8 فروری کی کال دی ہے میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ ناکامی ہوگی، یہ جو پہیہ جام کرنا چاہتے ہیں یہ نہیں کرسکیں گے اور اس کے پھر مزید نقصانات ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دن اگر اکادکا کہیں پہیہ جام کرنے کی کوشش کی تو وہ لوگ پھر ایسے دھر لیے جائیں گے کہ بعد میں پھر گلہ ہوگا کہ 9 مئی کی طرح سزا ہوگئی یہ ہوگیا وہ ہوگیا لہٰذا یہ کال واپس لیں۔
راناثنااللہ نے کہا کہ اس وقت ملک کے 5 بڑے ہیں، ان کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں اور ان کے درمیان رابطہ ہونا چاہیے تو پھر سیاسی طور پر بہتر سمت بڑھ سکتے ہیں۔
وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان بڑوں میں وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، عمران خان اور پانچویں کا سب کو پتا ہے، ان کے درمیان جب تک اعتماد سازی نہیں ہوگی یا آپس میں کوئی رابطہ نہیں ہوگا، ایک دوسرے پر یقین نہیں ہوگا تو میرے اور عامر ڈوگر کی سطح پر ہم کوشش کرتے رہیں گے لیکن اس سے بریک تھرو نہیں ہوگا۔
پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے کہا کہ احتجاج کرنا آئین اور قانون کے اندر ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، کیا آج سے پہلے اس ملک میں پہیہ جام ہڑتالیں نہیں ہوئی، کیا احتجاج نہیں ہوئے، 75 برسوں سے اس ملک میں سیکڑوں پہیہ جام ہڑتالیں ہوئی ہیں، احتجاج ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان احتجاج کو سامنے رکھ کر ہمیں دوباہ 9 مئی یاد دلوائی جائے تو یہ مناسب بات نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے لیکن اگر ہم کسی سرکاری املاک کو نقصان پہنچائیں یا آئین اور قانون کو توڑیں یا اس کے خلاف کوئی اقدام کریں تو جو قانون کے مطابق سزا ہے ہمیں ضرور ملنی چاہیے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کے درمیان پی ٹی آئی اور ان کے نے کہا کہ پہیہ جام انہوں نے کے خلاف اور اس
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔