بنگلا دیش کرکٹ بورڈ ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کی منتقلی کا مطالبہ کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
بنگلادیش کرکٹ بورڈ آئی سی سی سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کی بھارت سے منتقلی کا مطالبہ کرے گا۔
بنگلادیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کے واقعے کے بعد بھارت اور بنگلادیش میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
کرکٹ ویب سائٹ نے کہا ہے کہ بی سی بی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اپنے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کا کہے گا۔
کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق بھارت میں سیکیورٹی تحفظات کی وجہ سے متبادل وینیو کا مطالبہ کیا جائے گا۔
کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق توقع ہے کہ بی سی بی کولکتہ میں کھلاڑیوں کے سیکیورٹی تحفظات کے بارے میں آئی سی سی کو آگاہ کرے گا۔
یاد رہے کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اپنے پہلے تین میچز کولکتہ میں کھیلے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :