منٹوں میں گاڑی پر ایم ٹیگ لگوانے کا آسان طریقہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایم ٹیگ کی رجسٹریشن کا عمل اتنا آسان بنا دیا گیا ہے کہ شہری چند منٹوں میں اپنی گاڑی کے لیے ایم ٹیگ حاصل کر سکتے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل فوری رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ ٹول پلازوں پر رش یا کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق ایم ٹیگ رجسٹریشن کے لیے صرف دو بنیادی دستاویزات کی ضرورت ہے: گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ یا بک اور گاڑی کے مالک کا قومی شناختی کارڈ (CNIC)۔ کسی اضافی فارم، فائل یا فوٹو کاپی کی ضرورت نہیں ہے، اور دونوں دستاویزات درست ہونے کی صورت میں ایم ٹیگ موقع پر ہی جاری کر دیا جاتا ہے۔
برائلر گوشت کی قیمت برقرار
حکام نے بارہا کہا ہے کہ جو شہری مکمل دستاویزات کے ساتھ رجسٹریشن سینٹرز پر پہنچتے ہیں، ان کا عمل صرف چند منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ کسی دستاویز کی کمی کی صورت میں انہیں واپس جانا پڑتا ہے۔
شہری سہولت کے لیے اسلام آباد میں ون نیٹ ورک کی جانب سے 15 ایم ٹیگ رجسٹریشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، تاکہ لوگ اپنے رہائشی علاقوں یا سفر کے راستوں کے قریب آسانی سے ایم ٹیگ حاصل کر سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان مراکز کا مقصد زیادہ سے زیادہ گاڑی مالکان کو بروقت ایم ٹیگ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
بصارت سے محروم افراد کی زندگیوں کو علم سے منور کرنے والے قابل تحسین ہیں:مریم نواز
انتظامیہ نے زور دے کر کہا ہے کہ ڈیڈ لائن کے بعد بغیر ایم ٹیگ موٹر ویز اور ٹول سڑکوں پر سفر کرنے والے شہری مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کو آخری دنوں کا انتظار نہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔مزید معلومات یا رجسٹریشن کے اوقاتِ کار اور سینٹرز کے مقامات کے لیے شہری 1313 ہیلپ لائن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایم ٹیگ ایک چھوٹا سا الیکٹرانک لیبل ہوتا ہے جو آپ کی گاڑی کی اگلی ونڈ اسکرین پر چسپاں کیا جاتا ہے۔ اس لیبل کے اندر ایک چپ نصب ہوتی ہے جو جیسے ہی آپ ٹول پلازہ کے قریب پہنچتے ہیں وہاں لگے کیمروں اور سینسرز کے ساتھ رابطہ کرتی ہے۔ سسٹم خود بخود آپ کے اکاؤنٹ سے ٹول کی رقم کاٹ لیتا ہے بغیر نقد لین دین اور بغیر رکے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لئے بڑا اعلان
یہ بالکل ایک ڈیجیٹل پاس کی طرح ہے۔ جیسے ہی آپ کی گاڑی قریب آتی ہے سسٹم آپ کا بیلنس چیک کرتا ہے اور اگر رقم موجود ہو تو ٹول گیٹ فوراً کھل جاتا ہے۔ نہ پیسے نکالنے کی ضرورت، نہ بات چیت، نہ وقت کا ضیاع بس چند سیکنڈز میں رواں دواں سفر۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایم ٹیگ جاتا ہے کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔