ملک کے سیاسی حالات اچھے نہیں ، مولا بخش چانڈیو
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
( سٹی 42) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو کا کہنا ہے کہ ملک کے سیاسی حالات اچھے نہیں ہیں، میں کسی مکتبہ فکر کے خلاف بھی نفرت کی بات نہیں کرتا، میں سیاسی کارکن ہوں کبھی خود کو وڈیرہ نہیں سمجھا۔جب تک سیاسی بحران نہیں ٹلے گا کوئی بھی معاشی بحران حل نہیں ہو سکتا ۔
کراچی میں ایک اور ناخوشگوار واقعہ، 3 افراد کنوئیں میں گر گئے
پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے پریس کلب حیدرآبادکے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حیدرآباد کی شامیں محبتوں والی ہیں ایسی شامیں کسی اور ملک میں نہیں، حیدرآباد پریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، حیدرآباد: میں کسی مکتبہ فکر کے خلاف بھی نفرت کی بات نہیں کرتا، میں سیاسی کارکن ہوں کبھی خود کو وڈیرہ نہیں سمجھا، ملک کے سیاسی حالات اچھے نہیں ہیں، جب تک سیاسی بحران نہیں ٹلے گا کوئی بھی معاشی بحران حل نہیں ہو سکتا ، سیاسی بحران ٹلے گا تو معاشی بحران بھی ٹل جائے گا ، موجودہ حالات پر سیاسی جماعتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہئیں ،بحران جب ملک کو ہلا رہے ہوں تو صرف حکومت کا ہی کردار نہیں رہتا اپوزیشن کا کردار بھی ذمہ داری بن جاتا ہے ،
پنجاب حکومت کا اس سال سیلابی خطرات سے بچاؤ کیلئے اہم فیصلہ
مولا بخش چانڈیو کا مزید کہنا تھا پی ٹی آئی کے رہنما اپنی قائد کی شریک حیات کو چھوڑ کر بھاگ گئے ،اپوزیشن کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے جو کہ وہ کر نہیں رہی ، یہ نہ مفاہمت کا راستہ لیتے ہیں نہ جنگ کا لیتے ہیں ، پی ٹی آئی والے بانی پر جان قربان کرنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن موقف بھی واضح نہیں کرتے ، جو کام سیاسی جماعتوں کا ہے انہوں نے وہ سارا بوجھ ایک ادارے پر ڈال دیا ہے ، سیاسی جماعتیں بھی تو اپنا کردار ادا کریں ، اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مذید عزت دے لیکن سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ، اگر حکومت ٹھیک نہیں کر پا رہی تو اپوزیشن کو کود کر میدان میں آجانا چاہیے اور ملک کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ، پیپلز پارٹی اشاروں کناروں میں کردار ادا کرنے کی بات ضرور کرتی ہے۔
لاہور کا موسم سرد ہوتے ہی مچھلی کی قیمتیں دگنی ہوگئیں
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی مولا بخش چانڈیو مولا بخش چانڈیو گفتگو مولا بخش چانڈیو مولا بخش چانڈیو اپنا کردار ادا نہیں کر ملک کے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔