امریکہ نے افغان جنگ میں 763ارب ڈالر خرچ کیے، امریکی انسپکٹر جنرل
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
امریکہ نے افغان جنگ میں 763ارب ڈالر خرچ کیے، امریکی انسپکٹر جنرل WhatsAppFacebookTwitter 0 4 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن(سب نیوز)امریکی انسپکٹر جنرل کی جانب سے افغانستان میں 2001 سے 2021 تک جاری جنگ اور تعمیر نو کے حوالے سے حتمی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا نے افغان جنگ میں 763 ارب ڈالر خرچ کیے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ کی مبینہ کوششوں کے باوجود افغان حکومت کو دوحہ مذاکرات میں نظرانداز کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ریاستی ڈھانچے کی کمزوری پیدا ہوئی۔امریکہ کی سرکاری رپورٹ کے مطابق 2002 سے 2021 تک امریکہ نے افغانستان میں تعمیر نو کے لیے مجموعی طور پر 144.
افغانستان میں جاری جنگی کارروائیوں پر امریکہ نے 763 ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے 90 ارب ڈالر مختص کیے گئے، اربوں ڈالر کے اخراجات کے باوجود غیر ملکی افواج پر انحصار ختم نہ ہوا اور امریکی انخلا کے بعد افغان فورسز تیزی سے بکھر گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان سکیورٹی اداروں میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین موجود رہے اور فورسز کے لیے مختص ایندھن بڑے پیمانے پر چوری ہوتا رہا، افغان فورسز کے لیے گاڑیاں، ہزاروں عسکری آلات اور ہتھیار فراہم کیے گئے، جن میں 162 طیارے بھی شامل ہیں، لیکن انخلا کے بعد یہ تمام سازوسامان افغانستان میں چھوڑ دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک نے 12.16 ارب ڈالر کے وعدے کیے، تاہم انسدادِ منشیات پروگرام پر 7.3 ارب ڈالر خرچ ہونے کے باوجود وہ غیر مثر رہے اور اسٹیبلائزیشن پروگرامز پر 4.7 ارب ڈالر خرچ ہونے کے بعد بھی نتائج مایوس کن رہے۔افغان جنگ میں 2 ہزار 450 سے زائد امریکی فوجی ہلاک اور 20 ہزار 700 زخمی ہوئے۔ امریکی انخلا کے بعد افغان مہاجرین کی امریکہ منتقلی کے لیے 14.2 ارب ڈالر مختص کیے گئے۔سقوطِ کابل کے بعد امریکہ نے چار سالوں میں طالبان حکومت کو 3.83 ارب ڈالر کی امداد فراہم کی، جس میں صرف مارچ 2025 کی ایک سہ ماہی میں 120 ملین ڈالر شامل تھے۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی عطیہ دہندگان نے امریکی انخلا کے بعد 8.1 ارب ڈالر اقوام متحدہ کے تحت چلنے والے منصوبوں کو دیے۔ افغان ری کنسٹرکشن ٹرسٹ فنڈ کے تحت 1.5 ارب ڈالر کے چھ منصوبے فعال ہیں، جبکہ طالبان حکومت امداد پر ٹیکس اور لیویز وصول کرتی رہی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرلکی مروت اور بنوں میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4پولیس اہلکار شہید لکی مروت اور بنوں میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4پولیس اہلکار شہید ایلون مسک کا وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی چینی وزیر سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر غور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قومی مذاکراتی کمیٹی کی قومی کانفرنس میں شرکت سے انکار بھکر میں یومِ ولادتِ باسعادت حضرت علیؓ کے موقع پر جشنِ مولودِ کعبہ و محفلِ سماع کا انعقاد مسلم لیگ (ن) عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے، مضبوط پاک فوج ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے: رانا منان خانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغان جنگ میں ڈالر خرچ کیے امریکہ نے نے افغان
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔