پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
لاہور: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی حالیہ نجکاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔ یہ درخواست ایڈووکیٹ نبیل جاوید کہلون نے دائر کی، جس میں قومی ائیرلائن کی فروخت کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں بتایا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی بولی کی منظوری دی تھی۔یہ کامیاب بولی حکومت کی مقررہ قیمت 115 ارب روپے سے تقریباً 35 فیصد زائد تھی۔ کنسورشیم نے فضائی بیڑے کی جدید کاری اور آپریشنل ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید 80 سے 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا ہے۔درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ نجکاری کا عمل، بالخصوص 7 مئی 2025 کو جاری کیا گیا ایکسپریشن آف انٹرسٹ اور اس کے بعد 23 دسمبر کو کی گئی فروخت، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن کنورژن ایکٹ 2016 کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ 23 دسمبر کا اقدام پی آئی اے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت نے ای او آئی جاری کرتے وقت اس قانونی پہلو کو نظرانداز کیا کہ پی آئی اے ایک بین الصوبائی ادارہ ہے جو آئین کے تحت وفاقی قانون سازی کی فہرست، حصہ دوم میں شامل ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر نجکاری ممکن نہیں تھی۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے کابینہ کمیٹی کے ذریعے مشترکہ مفادات کونسل اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کیا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2016 کے ایکٹ کی شق 3 اور 4 کے تحت کسی بھی قسم کی تنظیم نو یا اثاثوں کی منتقلی حکومت کے زیرِ انتظام اداروں کے اندر ہی رہنی چاہیے۔درخواست گزار نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پی آئی اے میں بھاری عوامی فنڈز لگائے گئے ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: درخواست گزار درخواست میں پی آئی اے کی ہے درخواست کی گئی ہے گیا ہے کہ ارب روپے کی فروخت کیا گیا کے لیے کے تحت
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔