لاہور: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی حالیہ نجکاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔ یہ درخواست ایڈووکیٹ نبیل جاوید کہلون نے دائر کی، جس میں قومی ائیرلائن کی فروخت کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں بتایا گیا ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے عارف حبیب گروپ کی قیادت میں ایک کنسورشیم کی جانب سے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی بولی کی منظوری دی تھی۔یہ کامیاب بولی حکومت کی مقررہ قیمت 115 ارب روپے سے تقریباً 35 فیصد زائد تھی۔ کنسورشیم نے فضائی بیڑے کی جدید کاری اور آپریشنل ڈھانچے کی بہتری کے لیے مزید 80 سے 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ بھی کیا ہے۔درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ نجکاری کا عمل، بالخصوص 7 مئی 2025 کو جاری کیا گیا ایکسپریشن آف انٹرسٹ اور اس کے بعد 23 دسمبر کو کی گئی فروخت، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن کنورژن ایکٹ 2016 کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ 23 دسمبر کا اقدام پی آئی اے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت نے ای او آئی جاری کرتے وقت اس قانونی پہلو کو نظرانداز کیا کہ پی آئی اے ایک بین الصوبائی ادارہ ہے جو آئین کے تحت وفاقی قانون سازی کی فہرست، حصہ دوم میں شامل ہے، اس لیے آئین کے آرٹیکل 154 کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر نجکاری ممکن نہیں تھی۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے کابینہ کمیٹی کے ذریعے مشترکہ مفادات کونسل اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر غیر قانونی طور پر پی آئی اے کی نجکاری کا فیصلہ کیا۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2016 کے ایکٹ کی شق 3 اور 4 کے تحت کسی بھی قسم کی تنظیم نو یا اثاثوں کی منتقلی حکومت کے زیرِ انتظام اداروں کے اندر ہی رہنی چاہیے۔درخواست گزار نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پی آئی اے میں بھاری عوامی فنڈز لگائے گئے ہیں.

اس لیے اسے کسی نجی گروپ کو فروخت کرنا ایک اہم عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔ان کے مطابق نجکاری کو جواز فراہم کرنے کے لیے پی آئی اے کو غلط طور پر قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا گیا اور یہ مؤقف اپنایا گیا کہ اس کی مالیت مجموعی نقصانات یعنی تقریباً 800 ارب روپے سے پانچ گنا کم ہے۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حقیقت میں پی آئی اے کو حکومت کی جانب سے گرانٹس یا سبسڈیز نہیں دی جا رہیں بلکہ مالی مشکلات کی وجہ قرضوں کی ادائیگی، بدانتظامی اور پالیسی ناکامیاں ہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اثاثے کی فروخت کے لیے اختیار کیا گیا طریقہ کار اختیارات کے ناجائز استعمال، شفافیت کے فقدان اور من مانے فیصلوں کے مترادف ہے۔ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ 14 دسمبر 2023 کو پرائیویٹائزیشن کمیشن آرڈیننس کی شق 28 میں کی گئی ترمیم، جس کے تحت ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار کو محدود کیا گیا، اس کیس پر لاگو نہیں ہوتی کیونکہ یہ درخواست بولی دہندگان کے درمیان نجی تنازع نہیں بلکہ آئینی اور قانونی خلاف ورزیوں سے متعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے جیسے قومی اثاثے کی فروخت آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی جانچ پڑتال کے دائرے میں آتی ہے۔ایوی ایشن انڈسٹری کے ملازمین کی عدالتوں میں نمائندگی کے حوالے سے معروف ایڈووکیٹ نبیل جاوید نے الزام عائد کیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ اٹھانے پر انہیں ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 23 دسمبر 2025 کو طے پانے والے معاہدے سمیت پی آئی اے کی فروخت کو کالعدم قرار دیا جائے۔ساتھ ہی یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ مزید تمام اقدامات معطل کیے جائیں، مئی 2025 کے ای او آئی کے تحت ہونے والی کسی بھی کارروائی کو روکا جائے اور اگر کسی قسم کی تنظیم نو ناگزیر ہو تو اسے مکمل طور پر سرکاری ملکیت کے اداروں تک محدود رکھا جائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: درخواست گزار درخواست میں پی آئی اے کی ہے درخواست کی گئی ہے گیا ہے کہ ارب روپے کی فروخت کیا گیا کے لیے کے تحت

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش