Express News:
2026-06-02@22:38:05 GMT

سابق آسٹریلوی کرکٹر کی صحت میں بہتری، کوما سے باہر آ گئے

اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT

سابق آسٹریلوی کرکٹر ڈیمین مارٹن کی صحت میں بہتری آئی ہے اور وہ کوما کی حالت سے باہر آگئے۔

54 سالہ ڈیمین مارٹن پچھلے ہفتے اچانک بیمار پڑ گئے تھے جس کے بعد انہیں جلدی اسپتال منتقل کیا گیا اور میننجائٹس کی تشخیص کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں انڈیوسڈ کوما میں رکھا تھا۔

سابق ساتھی کھلاڑی ایڈم گلکرسٹ نے اتوار کو ڈیمین مارٹن کے خاندان کی جانب سے ایک بیان میں کہا کہ آسٹریلیا کے سابق بلے باز ڈیمین مارٹن گردن توڑ بخار کے بعد کوما سے بیدار ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیمین مارٹن اب بات کر سکتے ہیں اور علاج کے اثرات پر اچھی طرح ردِ عمل دے رہے ہیں جسے خاندان نے حقیقی معنوں میں ایک معجزاتی واپسی قرار دیا ہے۔

گل کرِسٹ نے مزید بتایا کہ مارٹن بہت خوش مزاج ہیں اور انہیں ملنے والی سپورٹ سے حیرت و مسرت محسوس ہو رہی ہے۔ ڈاکٹروں کو امید ہے کہ انہیں جلد ہی آئی سی یو سے دوسرے وارڈ میں منتقل کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ڈیمین مارٹن نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے دور میں 67 ٹیسٹ اور 208 ون ڈے میچز میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی اور  وہ آسٹریلیا کے 2003ء کے ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے اہم رکن بھی تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈیمین مارٹن

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان