سابق آسٹریلوی کرکٹر کی صحت میں بہتری، کوما سے باہر آ گئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
سابق آسٹریلوی کرکٹر ڈیمین مارٹن کی صحت میں بہتری آئی ہے اور وہ کوما کی حالت سے باہر آگئے۔
54 سالہ ڈیمین مارٹن پچھلے ہفتے اچانک بیمار پڑ گئے تھے جس کے بعد انہیں جلدی اسپتال منتقل کیا گیا اور میننجائٹس کی تشخیص کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں انڈیوسڈ کوما میں رکھا تھا۔
سابق ساتھی کھلاڑی ایڈم گلکرسٹ نے اتوار کو ڈیمین مارٹن کے خاندان کی جانب سے ایک بیان میں کہا کہ آسٹریلیا کے سابق بلے باز ڈیمین مارٹن گردن توڑ بخار کے بعد کوما سے بیدار ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیمین مارٹن اب بات کر سکتے ہیں اور علاج کے اثرات پر اچھی طرح ردِ عمل دے رہے ہیں جسے خاندان نے حقیقی معنوں میں ایک معجزاتی واپسی قرار دیا ہے۔
گل کرِسٹ نے مزید بتایا کہ مارٹن بہت خوش مزاج ہیں اور انہیں ملنے والی سپورٹ سے حیرت و مسرت محسوس ہو رہی ہے۔ ڈاکٹروں کو امید ہے کہ انہیں جلد ہی آئی سی یو سے دوسرے وارڈ میں منتقل کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ڈیمین مارٹن نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے دور میں 67 ٹیسٹ اور 208 ون ڈے میچز میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی اور وہ آسٹریلیا کے 2003ء کے ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے اہم رکن بھی تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈیمین مارٹن
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔