ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج کی شدت میں کمی، سپریم لیڈر نے مطالبات کو جائز قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج کی شدت میں کمی آنے لگی، احتجاج کا دائرہ کار فارس، ہمدان اور دشت سمیت محض چند شہروں تک محدود ہوکر رہ گیا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے احتجاج کرنے والوں کے مطالبات جائز قرار دے دیا ہے۔
آیت اللّٰہ خامنہ نے کہا ہے کہ ایران دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کرنسی میں اتار چڑھاؤ کے پیچھے دشمن کا ہاتھ ہے۔
دوسری جانب ایران کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عامر سعید نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور صدر سلامتی کونسل کو خط میں کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا بیان اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قانون کے خلاف ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ ایرانی افواج مکمل طور پر الرٹ ہیں اور ایرانی عوام کو داخلی امور میں مداخلت برداشت نہیں ہے۔
اس قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا اگر ایرانی حکومت نے مظاہرین پر گولی چلائی تو ہم انھیں بچانے آئیں گے۔
اس کے علاوہ امریکا کے سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ اور سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت مشکل میں ہے اور فوجی مداخلت ان کی آخری اُمید ہے۔
سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ نے مزید کہا کہ اسرائیلی ایجنسی ’موساد‘ کے ایجنٹ ایرانی مظاہرین کے شانہ بہ شانہ سڑکوں پر ہیں، جنہیں وہ سال نو کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔