نیویارک(ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے وینزویلا میں حالیہ کشیدگی میں اضافے، بالخصوص امریکہ کی جانب سے کی گئی فوجی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نیویارک میں جاری بیان کے مطابق سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ اس پیش رفت کے خطے پر تشویشناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، وینزویلا کی صورتحال سے قطع نظر، اس نوعیت کی فوجی کارروائیاں ایک خطرناک نظیر قائم کرتی ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کو بین الاقوامی قانون، خصوصاً اقوام متحدہ کے چارٹر کا مکمل احترام کرنا چاہئے، اس امر پر گہری تشویش ہے کہ حالیہ پیش رفت میں بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی پاسداری نہیں کی گئی، انہوں نے اس صورتحال کو عالمی قانونی نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے وینزویلا کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے مکمل احترام کے ساتھ جامع اور بامقصد مذاکرات کا راستہ اختیار کریں تاکہ بحران کا پرامن حل نکالا جا سکے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وینزویلا میں سیاسی اور عسکری صورتحال تیزی سے کشیدہ ہو رہی ہے اور عالمی برادری اس کے ممکنہ علاقائی اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن