وینزویلا رجیم چینج، کیا امریکا ایک گہری دلدل میں پھنس رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وینزویلا پر حملہ، صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور عارضی طور پر ملک چلانے کا اعلان ایک ایسے سیاستدان کی جانب سے غیر معمولی قدم قرار دیا جا رہا ہے جو برسوں سے غیر ملکی مداخلت اور بیرونی جنگوں پر تنقید کرتا آیا ہے اور امریکا کو عالمی تنازعات سے دور رکھنے کا دعویدار رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دوپہر کو ہونے والی نیوز کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم وینزویلا کو اس وقت تک چلائیں گے جب تک ایک محفوظ، درست اور دانشمندانہ انتقالِ اقتدار ممکن نہیں ہو جاتا۔
تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا کس حد تک فوجی یا سیاسی کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر اس حقیقت کے باوجود کہ مادورو کے قریبی ساتھی اب بھی اقتدار میں موجود دکھائی دیتے ہیں۔
’وہ جنگیں جن میں ہم کبھی داخل ہی نہیں ہوئے‘جنوری میں اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم اپنی کامیابی کا اندازہ نہ صرف جیتی گئی جنگوں سے لگائیں گے بلکہ ان جنگوں سے بھی جو ہم نے ختم کیں، اور سب سے بڑھ کر ان جنگوں سے جن میں ہم کبھی داخل ہی نہیں ہوئے۔
لیکن اس کے بعد سے ٹرمپ انتظامیہ شام، عراق، ایران، نائجیریا، یمن اور صومالیہ میں فضائی حملے کر چکی ہے، کیریبین اور بحرالکاہل میں درجنوں مبینہ منشیات بردار کشتیوں کو تباہ کیا جا چکا ہے، جبکہ گرین لینڈ اور پاناما پر حملے کی دھمکیاں بھی دی جا چکی ہیں۔
وینزویلا پر گزشتہ شب کے حملے کو ٹرمپ کی اب تک کی سب سے جارحانہ فوجی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں دارالحکومت کاراکاس سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو منشیات اسمگلنگ کے الزامات میں حراست میں لے کر نیویارک منتقل کیا گیا۔
داخلی سیاست میں خدشاتیہ پیش رفت ان ریپبلکن حلقوں کی امیدوں کے برعکس ہے جو چاہتے تھے کہ صدر ٹرمپ اپنی توجہ مہنگائی، صحت، روزگار اور معیشت جیسے اندرونی مسائل پر مرکوز رکھیں۔
صدر ٹرمپ نے تاہم اس مداخلت کو اپنے ’سب سے پہلے امریکا‘ نظریے کے مطابق قرار دیا اور کہا ’ہم اچھے ہمسایوں، استحکام اور توانائی سے گھرا رہنا چاہتے ہیں۔‘
ان کا اشارہ وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر کی جانب تھا۔
ریپبلکن رکنِ کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے سوشل میڈیا پر لکھا ’یہ وہی ہے جسے ختم کرنے کے لیے میگا کے حامیوں نے ووٹ دیا تھا۔ ہم کتنے غلط ثابت ہوئے۔‘ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اگلے ہفتے کانگریس سے مستعفی ہو جائیں گی۔
دلدل میں پھنسنے کا خدشہڈیموکریٹک سینیٹ لیڈر چک شومر نے کہا ’مادورو ایک غیر قانونی آمر ہو سکتا ہے، لیکن کانگریس کی اجازت کے بغیر فوجی کارروائی اور بغیر کسی واضح منصوبے کے قدم اٹھانا لاپرواہی ہے۔‘
نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس اس معاملے کو صدر ٹرمپ کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق وینزویلا میں فوجی کارروائی صرف 20 فیصد امریکی عوام کی حمایت حاصل کر سکی تھی۔
سیکریٹری خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کانگریس کے متعدد ارکان سے رابطہ کر کے مخالفت کم کرنے کی کوشش کی۔
تاہم ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے کہا کہ کسی خودمختار ملک کے صدر کو امریکی قانون کے تحت گرفتار کرنے کا دعویٰ آئینی طور پر مشکوک ہے۔
ماضی کی جھلکیاں، مستقبل کے سوالاتماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسی اب ان ہی امریکی صدور سے مشابہ ہو رہی ہے جنہیں وہ کبھی ’نیو کنزرویٹو‘ کہہ کر تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ 1983 میں ریگن نے گریناڈا پر حملہ کیا۔ 1989 میں جارج بش نے پاناما میں نوریگا حکومت کا خاتمہ کیا۔
سابق امریکی سفیر ایلیٹ ابرامز کے مطابق مادورو کو ہٹانا درست قدم ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکا وینزویلا میں جمہوریت کے قیام میں درست کردار ادا کرے گا؟
سابق اوباما مشیر بریٹ برؤن نے خبردار کیا کہ امریکا اب ایک پیچیدہ اور طویل منتقلی کے عمل میں پھنس سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے مطابق رہا ہے نے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔