امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وینزویلا پر حملہ، صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور عارضی طور پر ملک چلانے کا اعلان ایک ایسے سیاستدان کی جانب سے غیر معمولی قدم قرار دیا جا رہا ہے جو برسوں سے غیر ملکی مداخلت اور بیرونی جنگوں پر تنقید کرتا آیا ہے اور امریکا کو عالمی تنازعات سے دور رکھنے کا دعویدار رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دوپہر کو ہونے والی نیوز کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم وینزویلا کو اس وقت تک چلائیں گے جب تک ایک محفوظ، درست اور دانشمندانہ انتقالِ اقتدار ممکن نہیں ہو جاتا۔

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا کس حد تک فوجی یا سیاسی کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر اس حقیقت کے باوجود کہ مادورو کے قریبی ساتھی اب بھی اقتدار میں موجود دکھائی دیتے ہیں۔

’وہ جنگیں جن میں ہم کبھی داخل ہی نہیں ہوئے‘

جنوری میں اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم اپنی کامیابی کا اندازہ نہ صرف جیتی گئی جنگوں سے لگائیں گے بلکہ ان جنگوں سے بھی جو ہم نے ختم کیں، اور سب سے بڑھ کر ان جنگوں سے جن میں ہم کبھی داخل ہی نہیں ہوئے۔

لیکن اس کے بعد سے ٹرمپ انتظامیہ شام، عراق، ایران، نائجیریا، یمن اور صومالیہ میں فضائی حملے کر چکی ہے، کیریبین اور بحرالکاہل میں درجنوں مبینہ منشیات بردار کشتیوں کو تباہ کیا جا چکا ہے، جبکہ گرین لینڈ اور پاناما پر حملے کی دھمکیاں بھی دی جا چکی ہیں۔

وینزویلا پر گزشتہ شب کے حملے کو ٹرمپ کی اب تک کی سب سے جارحانہ فوجی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں دارالحکومت کاراکاس سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو منشیات اسمگلنگ کے الزامات میں حراست میں لے کر نیویارک منتقل کیا گیا۔

داخلی سیاست میں خدشات

یہ پیش رفت ان ریپبلکن حلقوں کی امیدوں کے برعکس ہے جو چاہتے تھے کہ صدر ٹرمپ اپنی توجہ مہنگائی، صحت، روزگار اور معیشت جیسے اندرونی مسائل پر مرکوز رکھیں۔

صدر ٹرمپ نے تاہم اس مداخلت کو اپنے  ’سب سے پہلے امریکا‘ نظریے کے مطابق قرار دیا اور کہا ’ہم اچھے ہمسایوں، استحکام اور توانائی سے گھرا رہنا چاہتے ہیں۔‘
ان کا اشارہ وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر کی جانب تھا۔

میگا تحریک میں دراڑیں

ریپبلکن رکنِ کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے سوشل میڈیا پر لکھا ’یہ وہی ہے جسے ختم کرنے کے لیے میگا کے حامیوں نے ووٹ دیا تھا۔ ہم کتنے غلط ثابت ہوئے۔‘ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اگلے ہفتے کانگریس سے مستعفی ہو جائیں گی۔

دلدل میں پھنسنے کا خدشہ

ڈیموکریٹک سینیٹ لیڈر چک شومر نے کہا ’مادورو ایک غیر قانونی آمر ہو سکتا ہے، لیکن کانگریس کی اجازت کے بغیر فوجی کارروائی اور بغیر کسی واضح منصوبے کے قدم اٹھانا لاپرواہی ہے۔‘

نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس اس معاملے کو صدر ٹرمپ کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق وینزویلا میں فوجی کارروائی صرف 20 فیصد امریکی عوام کی حمایت حاصل کر سکی تھی۔

ریپبلکن پارٹی میں خارجہ پالیسی پر اختلاف

سیکریٹری خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کانگریس کے متعدد ارکان سے رابطہ کر کے مخالفت کم کرنے کی کوشش کی۔

تاہم ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے کہا کہ کسی خودمختار ملک کے صدر کو امریکی قانون کے تحت گرفتار کرنے کا دعویٰ آئینی طور پر مشکوک ہے۔

ماضی کی جھلکیاں، مستقبل کے سوالات

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسی اب ان ہی امریکی صدور سے مشابہ ہو رہی ہے جنہیں وہ کبھی ’نیو کنزرویٹو‘ کہہ کر تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ 1983 میں ریگن نے گریناڈا پر حملہ کیا۔ 1989 میں جارج بش نے پاناما میں نوریگا حکومت کا خاتمہ کیا۔

سابق امریکی سفیر ایلیٹ ابرامز کے مطابق مادورو کو ہٹانا درست قدم ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکا وینزویلا میں جمہوریت کے قیام میں درست کردار ادا کرے گا؟

سابق اوباما مشیر بریٹ برؤن نے خبردار کیا کہ امریکا اب ایک پیچیدہ اور طویل منتقلی کے عمل میں پھنس سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے مطابق رہا ہے نے کہا

پڑھیں:

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔

مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔

مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل