وینزویلا کا انتظام امریکہ سنھبالے گا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
وینزویلا کے دارالحکومت پر فوجی حملے کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ میرے احکامات کے مطابق، امریکی مسلح افواج نے آج وینزویلا میں ایک غیر معمولی فوجی آپریشن انجام دیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ وینزویلا کی انتظامیہ سنبھالے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے آج صبح وینزویلا کے دارالحکومت پر فوجی حملے کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ میرے احکامات کے مطابق، امریکی مسلح افواج نے آج وینزویلا میں ایک غیر معمولی فوجی آپریشن انجام دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس فوجی کارروائی کا مقصد مادورو کو عدالت میں لانا (اس پر مقدمہ چلانا) تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کے خلاف فوجی آپریشن ہوا، زمین اور سمندر کے راستے انجام دیا گیا۔ وینزویلا کی تمام فوجی صلاحیت ناکارہ ہو چکی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مادورو اور اس کی اہلیہ پر نیویارک میں منشیات اور دہشت گردانہ اقدامات کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ مادورو کو گرفتار کرنے کے آپریشن کے دوران کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا اور ہم نے کوئی فوجی سازوسامان بھی نہیں کھویا۔ وینزویلا کے حکام، جن میں وزیرِ دفاع اور وزیرِ داخلہ بھی شامل ہیں، ملک کی سلامتی اور استحکام برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں کہ ملک مادورو کے مخالفین کے ہاتھ میں نہیں گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ وینزویلا کی انتظامیہ سنبھالے گا تاکہ محفوظ انتقالِ اقتدار کی ضمانت دی جا سکے، ہم وینزویلا کو چلانے جا رہے ہیں، ہم ملک کو اس وقت تک چلائیں گے جب تک ہم ایک محفوظ، درست اور سوچ سمجھ کر انتقالِ اقتدار انجام نہ دے سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم وینزویلا کے خلاف حملوں کی دوسری لہر انجام دینے کے لیے تیار تھے، اگر پہلی لہر کامیاب نہ ہوتی تو ہم اسے نافذ کرتے۔ لیکن اس کی ضرورت نہیں پڑی۔ دوسری لہر بہت زیادہ طاقتور ہونی تھی۔ امریکہ کے صدر، جو ہمیشہ منشیات کو وینزویلا پر حملے کا بہانہ بناتا رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں امریکہ کی مداخلت کے اصل مقصد کا اعتراف کیا اور کہا کہ امریکہ کی بڑی تیل کمپنیوں کو وینزویلا بھیجا جائے گا اور وہ وہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی۔ ٹرمپ نے منشیات کے خلاف کارروائی کے دعوے اور مادورو پر حملے کے بہانے کو دہراتے ہوئے کہا کہ مادورو کے خلاف مقدمے سے متعلق ضروری شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ مادورو اور اس کی اہلیہ امریکہ روانہ ہو رہے ہیں اور آخرکار نیویارک جائیں گے، پھر میرے خیال میں نیویارک اور میامی یا فلوریڈا کے درمیان کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ مادورو اور اس کی اہلیہ امریکی عدالتی نظام کی مکمل طاقت کو محسوس کریں گے۔ ٹرمپ نے مغربی نصف کرے میں مونرو نظریے (Monroe Doctrine) کے نام سے معروف حکمتِ عملی کو دوبارہ استعمال کرنے کے لیے امریکہ کی واپسی پر زور دیتے ہوئے، مونرو نظریے کو “دون-رو” (Don-roe) نظریہ قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وینزویلا کے کے خلاف کہا کہ اور اس
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔