data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے انتظامی معاملات امریکا دیکھے گا، وینزویلا کے انتظامی معاملات امریکا چلائے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اس قسم کی کارروائی کبھی کسی نے نہیں دیکھی ، دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے ایسا حملہ نہیں دیکھا، ہم نے ایران کی جوہری تنصیات کو بھی نشانہ بنایا ، آپریشن ہیمر کے ذریعے کی جوہری صلاحیت ختم کی گئی۔یہ بات انہوں نے وینزویلا پر حملے کے بعد اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہی۔

تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ وینزویلا کے صدر مادورو کو اہلیہ کے ساتھ رات کے اندھیرے میں گرفتار کیا گیا، مادورو اور ان کی اہلیہ دونوں کو امریکی انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا، صدر مادور بہت ظالم تھے ،لوگوں کو گرفتار اور قتل کیا، آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کیا ، وینزویلا کے انتظامی معاملات امریکا دیکھے گا، وینزویلا کے انتظامی معاملات امریکا چلائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ دہائیوں سے وینزویلا کے لوگ مشکلات سے دوچار تھے، وینزویلا نے اپنی صلاحیتوں کے مقابلے محدود مقدار میں تیل برآمد کیا، صدر پر کرمنلز چارجز لگائیں گے، صدر مادورو کو گرفتار کرکے انصاف کٹہرے میں لایا گیا، مادورو مجرمانہ نیٹ ورک کا ذمہ دار تھا جو امریکا کو منشیات برآمد کرتا تھا، وینزویلا پر ایک اور حملے کیلئے تیار ہیں۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل