وینزویلا کے انتظامی معاملات امریکا چلائے گا؛ ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے انتظامی معاملات امریکا دیکھے گا، وینزویلا کے انتظامی معاملات امریکا چلائے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس قسم کی کارروائی کبھی کسی نے نہیں دیکھی ، دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے ایسا حملہ نہیں دیکھا، ہم نے ایران کی جوہری تنصیات کو بھی نشانہ بنایا ، آپریشن ہیمر کے ذریعے کی جوہری صلاحیت ختم کی گئی۔یہ بات انہوں نے وینزویلا پر حملے کے بعد اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہی۔
تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ وینزویلا کے صدر مادورو کو اہلیہ کے ساتھ رات کے اندھیرے میں گرفتار کیا گیا، مادورو اور ان کی اہلیہ دونوں کو امریکی انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا، صدر مادور بہت ظالم تھے ،لوگوں کو گرفتار اور قتل کیا، آپریشن امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کیا ، وینزویلا کے انتظامی معاملات امریکا دیکھے گا، وینزویلا کے انتظامی معاملات امریکا چلائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ دہائیوں سے وینزویلا کے لوگ مشکلات سے دوچار تھے، وینزویلا نے اپنی صلاحیتوں کے مقابلے محدود مقدار میں تیل برآمد کیا، صدر پر کرمنلز چارجز لگائیں گے، صدر مادورو کو گرفتار کرکے انصاف کٹہرے میں لایا گیا، مادورو مجرمانہ نیٹ ورک کا ذمہ دار تھا جو امریکا کو منشیات برآمد کرتا تھا، وینزویلا پر ایک اور حملے کیلئے تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔