صدر وینزویلا اور اہلیہ پر چارج شیٹ؛ مقدمہ کہاں چلے گا؟ امریکی اٹارنی جنرل نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس پر امریکا میں سنگین فوجداری الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی بیوی سیلیا فلورس کے خلاف متعدد سنگین الزامات عائد کر دیے۔
ان الزامات میں نارکو- ٹیرازم (منشیات دہشت گردی)، کوکین اسمگلنگ، مشین گنز اور تباہ کن آلات رکھنے اور امریکا کے خلاف سازش کرنا شامل ہیں۔
الزامات کی یہ فہرست امریکی اٹارنی جنرل پیم بانڈی نے ایکس (X) پر جاری اپنے پیغام میں شیئر کی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان الزامات پر امریکی عدالتوں کا جلد سامنا کرنا ہوگا۔
امریکی اٹارنی جنرل کے بقول یہ الزامات نیو یارک کے سدرن ڈسٹرکٹ میں درج کیے گئے ہیں جہاں انھیں فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔
Nicolas Maduro and his wife, Cilia Flores, have been indicted in the Southern District of New York.
درحقیقت 2020 میں ہی نکولس مادورو اور کئی دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مزید پڑھیںوینزویلا کے صدر امریکی حراست میں؛ کس ملک نے ثالثی کی پیشکش کردی؛ عالمی تشویش
وینزویلا کے گرفتار صدر کو کہاں لے جایا گیا اور کیا سلوک ہوگا؟ امریکی وزرا نے بتادیا
جن میں الزام تھا کہ وہ “کارٹل آف دی سَنز” جیسی منشیات نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر امریکہ میں کوکین سپلائی کر رہے تھے جسے امریکا نے نارکو- ٹیرازم اور دہشت گردی سے منسوب کیا تھا۔
ماضی میں امریکی محکمہ خزانہ نے وینزویلا کے صدر مادورو ان کے اہل خانہ اور ان کے قریبی ساتھیوں کو سزائیں اور مالی پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔
امریکا کی ان پابندیوں کا مقصد منشیات اور بدعنوانی سے منسلک نیٹ ورک کا خاتمہ تھا۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا پر تابڑ توڑ حملوں اور امریکی فوجیوں کی کارروائی میں صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ان دونوں کو گرفتار کرکے وینزویلا سے بیرون ملک بھی منتقل کردیا گیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ کس ملک بھیجا گیا ہے۔
البتہ امریکی وزرا اور سینیٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو امریکا منتقل کرکے مقدمہ چلایا جائے گا جس کی تصدیق امریکی اٹارنی جنرل کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی اٹارنی جنرل نکولس مادورو اور وینزویلا کے صدر ان کی اہلیہ اور ان کی
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ