وینزویلا پر امریکی حملہ: صدر مادورو اہلیہ سمیت گرفتار، ملک سے باہر منتقل، ٹرمپ احکامات پر کارروائی جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وینزویلا کے دارالحکومت کراکس اور دیگر علاقوں میں متعدد زور دار دھماکوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کی قیادت کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے اور دونوں کو فضائی راستے سے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت انجام دی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وینزویلا سے متعلق تمام تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی جبکہ اس معاملے پر فلوریڈا میں واقع مارالاگو ریزورٹ میں ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کی جائے گی۔
امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈو نے اس پیش رفت کو وینزویلا کے لیے نیا سویرا قرار دیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ مادورو بالآخر اپنے جرائم کا حساب دیں گے۔
اخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مادورو کو امریکی فوج کی ایلیٹ فورس سمجھی جانے والی ڈیلٹا فورسز نے گرفتار کیا۔ یہ بات امریکی نشریاتی ادارے ’سی بی ایس‘ نیوز نے رپورٹ کی ہے۔
یہ پیش رفت وینزویلا کے ایوان صدرکی جانب سے ملک میں نفیر عام کا اعلان کیا گیا ہے۔ وینزویلا کی حکومت نے اس سے قبل تمام قومی دفاعی منصوبے فعال کرنے کا حکم دیا تھا اور امریکہ پر کھلی جارحیت کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ امریکہ نے وینز ویلا پر حملہ کرکے ایک پڑوسی ملک کی خود خودمختاری اور اسٹریٹجک وسائل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان خیل نے حکومتی بیان میں کہا کہ صدر مادورو نے پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کی تبدیلی کی کوئی بھی کوشش ناکام ہوگی جیسا کہ ماضی میں ہو چکا ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسے رودریگیز نے سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کے ٹھکانے کا علم نہیں۔ انہوں نے امریکی حکام سے مطالبہ کیا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کیا جائے۔
واضح رہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران امریکہ اور وینزویلا کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ امریکی افواج نے بارہا ایسے جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا جن پر منشیات اسمگلنگ کا شبہ تھا۔ امریکی حکومت کے مطابق ان کارروائیوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
امریکہ نے بحیرہ کیریبین میں اپنی عسکری موجودگی میں بھی نمایاں اضافہ کیا اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز سمیت دیگر جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے تعینات کیے۔
اس کے مقابلے میں صدر مادورو مسلسل واشنگٹن پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ طویل عرصے سے کاراکاس میں اقتدار کی تبدیلی اور ملک کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔