اطالوی وزیراعظم نے وینزویلا میں امریکی کارروائی کی حمایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام دفاعی نوعیت کا ہے اور موجودہ حالات میں جائز سمجھا جا سکتا ہے۔
وینزویلا کی صورتحال پر جاری بیان میں جارجیا میلونی کا کہنا تھا کہ اٹلی نے وینزویلا کے صدر کی خود ساختہ انتخابی فتح کو تسلیم نہیں کیا اور اٹلی وینزویلا میں جمہوری انتقالِ اقتدار کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ سکیورٹی کے خلاف ہائبرڈ حملوں کی صورت میں دفاعی مداخلت جائز ہو سکتی ہے، تاہم فوجی مداخلت آمریت کے خاتمے کا مستقل حل نہیں ہے۔ اطالوی وزیراعظم کے مطابق وینزویلا میں مقیم اطالوی شہریوں کی سلامتی اٹلی کی اولین ترجیح ہے۔
مزید پڑھیںوینزویلا کسی کی کالونی نہیں بنے گا، امریکی کارروائی پر نائب صدر کا دو ٹوک اعلان
ظہران ممدانی نے وینزویلا پر امریکی حملے کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا
جارجیا میلونی نے مزید کہا کہ اٹلی حکومتوں کی تبدیلی کے لیے بیرونی فوجی طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں ہے۔
دوسری جانب جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے میں وقت لگے گا اور اس معاملے پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وینزویلا میں نے وینزویلا
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔