Jasarat News:
2026-06-02@22:24:53 GMT

بیٹل آف گلوان

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260104-03-7

 

غزالہ عزیز

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت دنیا کو عسکری طاقت نہیں بلکہ میڈیا کی طاقت کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا ہے اور دنیا کے حکمران یعنی سرمہ دار طبقہ جیسے چاہے عوام کی رائے تبدیل کرنے پر قادر ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میڈیا دنیا کی خبریں سچائی کے ساتھ بلا کسی کمی بیشی کے پہنچا دیتا ہے تو وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا پر ترقی یافتہ ممالک کے سرداروں کا مکمل کنٹرول ہے اور ترقی پذیر ممالک کا میڈیا ان مغربی اداروں کا دست نگر ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے محافظ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

معروف مفکر نوم چومسکی نے اپنی کتاب ’’دا پولیٹیکل اکانومی آف ماس میڈیا‘‘ میں عوام کو خبریں پہنچانے کے اس سلسلے کو ایک پروپیگنڈا ماڈل قرار دیتے ہوئے ایسے پانچ فلٹرز کی نشاندہی کی جن سے گزر کر عوام تک خبر کو پہنچایا جاتا ہے انہی فلٹر کے ذریعے طے کیا جاتا ہے کہ کسی خبر کو کس انداز سے لوگوں تک پہنچانا ہے اور اس میں کیسے مطلوبہ رو بدل کرنا ہے یا اسے سرے سے ہی دبا دینا ہے۔ ان پانچ فلٹر پر نظر ڈالنے سے یہ اندازہ کرنا قطعی مشکل نہیں کہ ہمیں کیا اور کیوں بتایا جا رہا ہے۔ ان میں میڈیا اداروں کے مالی مفادات سب سے اہم ہوتے ہیں یہ مالکان سرمایہ دارانہ ذہنیت رکھتے ہیں اور مستقل طاقت کے حصول میں مصروف رہتے ہیں تاکہ حکومتوں، اداروں اور عوام کو اپنی مرضی کے مطابق چلنے پر مجبور کریں۔

فنڈنگ اور ایڈورٹائزنگ کا مقصد سرمائے کا حصول ہے اس کے لیے صنعتی ادارے ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ دیتے ہیں پھر خبر کے ذرائع پر اجارہ داری رکھنا چاہتے ہیں، دوسری طرف میڈیا اور اس کی پشت پر رہنے والے سرمایہ دار مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے طاقت کی استعمال سے بھی گریز نہیں کرتے۔ میڈیا سرمایہ داروں کی ہدایت کے مطابق لوگوں کے ذہنوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے پہ مجبور کرنے اور سوچنے کے لیے اپنی مرضی کے بت تراشتے ہیں جیسے کہ سویت یونین کے خاتمے کے بعد پہلے افغانستان، عراق اور پھر اسلامی دہشت گردی کا خوف پیدا کر کے عوام کو اس کا شکار بنایا گیا، اس خوف کے لیے میڈیا صرف خبر ہی نہیں بلکہ ڈراموں فلموں اور ہر پروگرام کا سہارا لیتا ہے۔ یہ خوف پیدا کرنے کے بعد لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ سرمایہ دار ہی ان کے جان اور مال کے محافظ ہیں لہٰذا وہ اس کے چنگل سے آزاد ہونے کے متعلق سوچے بھی نہ۔

یہ نوم چومسکی کے الفاظ ہیں جو وہ میڈیا کے متعلق 1988 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب پولیٹیکل اکانومی آف ماس میڈیا میں لکھتے ہیں۔ لہٰذا اس وقت دنیا میں جو جنگ چھڑی ہے وہ میڈیا وار ہے جو روایتی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اطلاعات، خبروں، پروپیگنڈے، تصاویر، ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے ذریعے لڑی جا رہی ہے اور اس کا اصل مقصد عوام کے ذہنوں کو قابو میں رکھنا سچ کو چھپانا یا توڑ مروڑ کا پیش کرنا اور جھوٹ کو بار بار دہرا کر سچ بنانا ہوتا ہے۔ میڈیا وار کا ایک اہم ٹول ڈرامے اور فلم بھی ہیں جس کے ذریعے سے ملکوں کی حکومتوں اور قوموں کو دہشت گرد بنا کر دکھایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ انتہائی اشتعال انگیز اور نقصان دہ ہوتی ہے جس سے ملکوں اور قوموں کو عالمی سطح پر نقصان پہنچتا ہے یہ جنگ پچھلی کئی عشروں سے مسلمانوں کے خلاف لڑی جا رہی ہے اب اس میں مزید شدت آ گئی ہے۔

پاکستان اس کا نشانہ اوّل دن سے ہے، افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان کے میڈیا ہاؤسز اپنے ملک کے اوپر ہونے والے میڈیا کے حملوں کا جواب بہتر طریقے سے دینے پہ آمادہ نہیں ہوتے، اس کے مقابلے میں بھارت اپنی فلموں کے ذریعے اپنی پالیسی دنیا تک پہنچاتا ہے اپنی فوج کو ہیرو ثابت کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے، خواہ جنگ میں وہ زیرو ہی رہے ہوں حالیہ ریلیز ہونے والی دھرندھر اور بیٹل اور گلوان فلم اس کا ثبوت ہے دھرندھر فلم لیاری اور رحمان ڈکیت کے بارے میں ہے پاکستان میں اس کے ڈائیلاگ، لباس، طور طریقے اور علاقے سب کو ہی مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے یہ الگ بات ہے کہ مذاق ہی مذاق میں اس کی ڈاؤن لوڈنگ بیس لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

بیٹل آف گلوان جو کہ چین کے ساتھ 2020 میں اکسائی چن کی گلوان وادی میں ہونے والے تنازع پر بنائی گئی ہے چینی سوشل میڈیا صارفین نے اس فلم کے ٹیزر پر خاصی تنقید کی ہے انہوں نے اداکاروں کے حلیے، یونیفارم اور جنگی مناظر کو غیر حقیقی قرار دیا ہے۔ چینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی انڈسٹری قوم پرستانہ جذبات کو ابھارنے کے لیے فلم کا استعمال کرتی ہے جو ایک پرانی ثقافتی اور سیاسی روایت کا حصہ ہے۔ چینی حکام کے مطابق اس فلم میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں مبالغے سے کام لیا ہے ساتھ حقائق کو مسخ کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ فلم کی ابتدا میں سلمان خان ایک ڈنڈا ہاتھ میں لے کر چینی فوج کی طرف بڑھ رہے ہیں اور انڈین فوج کو اپنے پیچھے بلا رہے ہیں صارفین کا کہنا ہے کہ انڈین بس فلموں میں ہی دشمن کو مارتے ہیں اور حقیقت میں خود مار کھاتے ہیں۔ بہرحال آج کے دور میں جب جنگیں میڈیا کے ذریعے لڑی جا رہی ہیں تو ہمارے فلم اور ڈراموں کے پروڈیوسرز کو آگے آنا چاہیے اور کچھ سیکھنا چاہیے۔ حالیہ پاکستان کی طرف سے کیا جانے والا آپریشن بنیان مرصوص اور انڈیا کی طرف سے آپریشن سندور ایک اہم موضوع ہے جس پر فلم بنانے اور دنیا کو بتانے کے لیے بہت کچھ حقائق موجود ہیں۔

 

غزالہ عزیز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ذریعے کے مطابق میڈیا کے جاتا ہے ہے اور اور اس کے لیے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت