ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی سام سنگ اپنے گلیکسی واچ کو ایک ایسے جدید ڈیوائس میں تبدیل کرنے جا رہی ہے جو ڈیمنشیا اور ذہنی صلاحیتوں میں ابتدائی کمی کی علامات کی نشاندہی کر سکے گا۔

سام سنگ کی جانب سے اس انقلابی فیچر کو ‘برین ہیلتھ’کے نام سے متعارف کرایا جائے گا، جس کی نمائش جنوری 2026 میں لاس ویگاس میں ہونے والی عالمی ٹیک نمائش سی ای ایس 2026 کے دوران کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے: سام سنگ نئے ماڈلز کے رنگ افشا ہوگئے، ٹائٹینیم فریم کی امید ختم

برین ہیلتھ فیچر سام سنگ اسمارٹ فونز اور ویئریبل ڈیوائسز سے حاصل ہونے والے روزمرہ ڈیٹا کا تجزیہ کرے گا، جس میں آواز کے انداز، چلنے کے طریقے (گیت)، اور نیند کے رویے شامل ہیں۔ ان عوامل کو وقت کے ساتھ مانیٹر کر کے نظام ممکنہ ذہنی تبدیلیوں کی نشاندہی کرے گا اور کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی صورت میں صارف یا تیماردار کو آگاہ کرے گا۔

سام سنگ کے مطابق اس فیچر کا مقصد ڈاکٹرز کی جگہ لینا نہیں بلکہ بروقت وارننگ دے کر جلد طبی معائنے کی ترغیب دینا ہے تاکہ بروقت علاج ممکن ہو سکے۔

یہ نظام سام سنگ ہیلتھ ایکو سسٹم کے ساتھ مکمل طور پر مربوط ہوگا اور گلیکسی واچ، گلیکسی رنگ سمیت دیگر ڈیوائسز پر نیند، فٹنس، دل کی صحت، اور غذائیت سے متعلق مختلف ڈیٹا کو یکجا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے: سام سنگ کے 3 بار فولڈ ہونے والے اسمارٹ فون کا پہلا اسٹاک مارکیٹ میں آتے ہی فروخت ہوگیا

پرائیویسی کے حوالے سے سام سنگ کا کہنا ہے کہ حساس صحت ڈیٹا کو براہِ راست ڈیوائس پر ہی پروسیس کیا جائے گا، جس سے صارف کی ذاتی معلومات محفوظ رہیں گی۔ ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سام سنگ ناکس سیکیورٹی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔

سام سنگ کے مطابق برین ہیلتھ فیچر کی زیادہ تر تیاری مکمل ہو چکی ہے اور اس وقت اسے مختلف طبی اداروں کے تعاون سے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ اس فیچر کے حتمی اجرا کی تاریخ اور سپورٹ کرنے والی ڈیوائسز کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا، تاہم یہ فیچر سام سنگ کی مستقبل کی ہیلتھ کیئر حکمتِ عملی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈائمنشیا سام سنگ گلیکسی واچ گھڑی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈائمنشیا گھڑی کرے گا

پڑھیں:

لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا

لاہور:   بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی. لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہورکی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کردی.فہرست کےمطابق لاہور کو نو ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں. 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائےگا. تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10اگست 2026 کو جاری ہوگی۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی