گزشتہ سال کے آخری دن ہولی فیملی ہسپتال کی جانب سے مردہ قرار دے کر باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ والدین کے حوالے کیا گیا بچہ  ہولی فیملی ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر اور بغیر وینٹی لیٹر کے  12 گھنٹے  سے زائد وقت زندہ رہنے کے بعد چل بسا۔

واہ کینٹ لالہ رخ کے عزت شاہ ہسپتال میں روبینہ خاتون کے ہاں پری میچور جڑواں بچے بیٹا اور بیٹی پیدا ہوئے جہنیں بعدازاں ایمبولینس کے ذریعے ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 31 دسمبر 2025 کو اسپتال کے ڈاکٹروں نے بچی کو ایڈمٹ کرلیا جب کہ بچے کو مردہ قرار دے کر اس کا باقاعدہ  ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرکے ڈاکٹر طیبہ صدف نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر بچے کی ڈیڈ باڈی لواحقین کے حوالے کر دینے کی تحریر لکھ دی تاہم بچے کو جب ایمبولینس میں شفٹ کیا گیا تو ایمبولینس کو جھٹکا لگنے پر بچے نے ایک دم سانس لینا شروع کی تو اسے آکسیجن ماسک لگا دیا گیا۔

والدین زندہ بچے اور ہاتھ میں اٹھائے اس کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ دوبارہ ہولی فیملی اسپتال پہنچے تو بچے کو وینٹی لیٹر لگایا گیا تو اس کی سانسیں بحال ہوگئیں۔

اس صورتحال کو اسپتال انتظامیہ نے لازرس سینڈروم نامی کیفیت قرار دے دیا اور عجلت میں جاری کیے گے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر انکوائری رپورٹ مرتب کرکے سربمہر صورت میں سیکرٹری ہیلتھ کو بھجوا دی جبکہ ہولی فیملی اسپتال میں۔ 12 گھنٹے سے زیادہ وقت زندہ رہنے کے بعد بچے کی موت واقعہ ہونے پر بچے کی میت والدین کے حوالے کر دی گئی۔

اس بچے کے ہمراہ پیدا ہونے والی بچی تاحال ہولی فیملی اسپتال میں زیر علاج ہے، ادھر پنجاب ھیلتھ کئیر کمیشن نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ھمایوں انور کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

کمیٹی نے ہولی فیملی ہسپتال اور عزت شاہ ہسپتال واہ کینٹ لالہ رخ سے متعلقہ میڈیکل ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

پنجاب ھیلتھ کئیر کمیشن اس معاملے میں اپنی پروسیڈنگ شروع کردی ہے جس کے مکمل ہونے پر باقاعدہ رپورٹ مرتب کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہولی فیملی اسپتال ڈیتھ سرٹیفکیٹ بچے کو

پڑھیں:

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر

سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔

 محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔

 واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی