کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، دو ہزار کلو بارودی مواد برآمد
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
کراچی:
سیکیورٹی فورسز نے شہر میں ایک بڑی کارروائی کے دوران خودکش گاڑی اور دھماکا خیز مواد برآمد کرکے کراچی میں ممکنہ دہشت گردی کے بڑے حملے کو ناکام بنا دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ کراچی کے علاقے رئیس گوٹھ میں کارروائی کی گئی جہاں دہشت گردوں نے وہیکل بورن پرووائیڈر ایکسپلوسیو ڈیوائس (وی بی آئی ای ڈی) کے طور پر تیار کیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردوں نے بارودی مواد سے بھرا ہوا منی ٹرک رئیس گوٹھ میں واقعے ایک کمپاؤنڈ میں کپڑوں کے ڈھیروں کے نیچے چھپا کر رکھا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ دہشت گردی کے لیے تیار کردہ منی ٹرک میں 60 دھماکا خیز مواد سے بھرے پلاسٹک ڈرم اور 5 دھماکا خیز ایل پی جی سلنڈر موجود تھے، جن کا مجموعی وزن تقریباً 2 ہزار کلوگرام تھا۔
ذرائع کے مطابق اسی کمپاؤنڈ کے ایک کمرے سے بھی بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد ہوا، جس میں مزید پلاسٹک ڈرم اور گیس سلنڈر شامل تھے، جو بظاہر تیار شدہ تھے۔
مزید بتایا گیا کہ اس کے علاوہ 40،40 کلوگرام کے 6 تھیلے بھی برآمد ہوئے جن میں ہوم میڈ دھماکا خیز مواد موجود تھا۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ٹرک اور کمرے میں موجود تمام دھماکا خیز ڈرم اور سلنڈر بحفاظت نکال کر ناکارہ بنا کر تحول میں لے لیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ دھماکا خیز مواد شہر میں منتقل کیا جانا تھا اور ممکنہ ہدف شہر کے اہم مقامات تھے جو ممکنہ طور بارود سے بھرے منی ٹرک سے نشانہ بنائے جانے والے تھے تاہم سیکیورٹی اداروں نے تمام دھماکا خیز مواد ناکارہ بنا کر دہشت گردی کی منصوبہ بندی ناکام بنادی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دھماکا خیز مواد
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔