کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا: خودکش بمبار گرفتار، 2ٹن بارودی مواد برآمد
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : سکیورٹی اداروں نے کراچی کو بڑی تباہی سے بچالیا گیا،سیکیورٹی اداروں نے خودکش بمبار کو گرفتار کرلیاجبکہ دہشت گرد کے قبضے سے دو ٹن بارودی مواد پکڑا گیا۔
میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے بڑی کامیابی حاصل کرلی، کراچی کو بڑی دہشت گردی سے بچالیا گیا۔ بلدیہ رئیس گوٹھ سے خودکش بمبار گرفتار کیا گیا جس کے قبضے سے دو ٹن بارودی مواد پکڑا گیا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق کراچی شہر میں عوامی مقامات پر دہشت گرد حملوں اور خودکش دھماکوں کا منصوبہ تھا،دہشت گردی کی انٹیلی جنس معلومات پر ایک ہفتےجانفشانی سے دن رات کام کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار خود کش بمبار سے حاصل اور انٹیلی جنس معلومات پر ہینڈلرز کا سراغ لگایا جارہا ہے، دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الہندوستان کالعدم بی ایل اے بشیرزیب گروپ سے نکلا، فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد، کارندے، سہولت کار افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ 30سے40کلومیٹر علاقے میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں کی انٹیلی جنس اطلاع تھی،سیکیورٹی اداروں نے گیس سلنڈر اور منی ٹرک بھی تحویل میں لے لیا۔
دھماکا خیزمواد ڈرموں میں بھرکرشہر منتقل کیا گیا تھا، 60ڈرم اور5گیس سلنڈر قبضےمیں لیے گئے ہیں،بم ڈسپوزل اسکواڈ نےبارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔