میگا موٹر کمپنی کا کراچی میراتھن کے فاتحین کی لندن میراتھن میں سرپرستی کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) جو پاکستان میں بی وائی ڈی کی آفیشل پارٹنر ہے، نے پاکستان کے بہترین ایتھلیٹس کی سرپرستی کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ لندن میراتھن 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کر سکیں۔
اس حوالے سے اعلان بی وائی ڈی کراچی میراتھن کی اختتامی تقریب میں کیا گیا، جس میں ملک بھر سے 7 ہزار سے زائد ایتھلیٹس نے شرکت کی، جبکہ 25 سے زائد ممالک کے 120 سے زیادہ بین الاقوامی کھلاڑی بھی اس عالمی معیار کے ایونٹ کا حصہ بنے۔
یہ بھی پڑھیے: وسیم اکرم پی ایس ایل کے برانڈ ایمبیسڈر مقرر، ملتان سلطانز سے متعلق بھی اہم اعلان
مردوں کے مقابلے میں اسرار خٹک نے 2 گھنٹے 39 منٹ میں دوڑ مکمل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ خواتین کے مقابلے میں سارہ لودھی نے 3 گھنٹے 33 منٹ میں فنش لائن عبور کر کے کامیابی اپنے نام کی۔ یہ ایونٹ پاکستان کا پہلا ورلڈ ایتھلیٹکس سے تصدیق شدہ طویل فاصلے کی دوڑ کا مقابلہ تھا۔
نمایاں کارکردگی دکھانے والے ایتھلیٹس کو نقد انعامات بھی دیے گئے، جن میں پہلی پوزیشن کے لیے 5 لاکھ روپے، دوسری کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار روپے اور تیسری پوزیشن کے لیے 1 لاکھ 25 ہزار روپے شامل تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دانش خالق، وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹیجی، بی وائی ڈی پاکستان نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے فخر کا لمحہ ہے کہ کراچی عالمی معیار کے رننگ ایونٹس کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔ ہمیں ان ایتھلیٹس پر بھی فخر ہے جنہوں نے اس کھیل میں اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد راولپنڈی میٹرو روٹ پر میراتھن کا انعقاد، سینکڑوں مقامی اور غیرملکی رنرز کی شرکت
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی نمبر ون نیو انرجی وہیکلز برانڈ کے طور پر بی وائی ڈی کا ایک پائیدار اور آگے بڑھتے پاکستان کا وژن میراتھن رننگ کی روح سے ہم آہنگ ہے۔ اسی وژن کے تحت ایم ایم سی پاکستان کی امنگوں اور حوصلے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے ایتھلیٹس کی مکمل معاونت جاری رکھے گی۔
اس شراکت داری پر تبصرہ کرتے ہوئے شوائب نظامی، سی ای او اسپورٹس ان پاکستان اور ریس ڈائریکٹر کراچی میراتھن نے کہا کہ یہ اس نوعیت کا ہمارا تیسرا سال ہے اور بی وائی ڈی کی معاونت سے ہم ایونٹ کو ایک نئی سطح تک لے جانے میں کامیاب ہوئے۔ سوشل رنز، ڈیجیٹل مہمات اور ڈیلرشپ ایکٹیویشنز کے ذریعے بی وائی ڈی نے ملک بھر میں رننگ کمیونٹی کو متحد کیا، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ طویل المدتی شراکت داری میراتھن رننگ کو پاکستان میں ایک مرکزی کھیل بنانے میں مدد دے گی۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی میں عالمی معیار کی میراتھن، اسرار خٹک نے فل میراتھن جیت لی
مقامی ٹیلنٹ کی سرپرستی کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے—جس کی مثال این بی ایل پی ایس ایل شراکت داری میں بھی دیکھی جا چکی ہے، ایم ایم سی کی کراچی میراتھن کے ساتھ شراکت داری محض اسپانسرشپ تک محدود نہیں۔ یہ پلیٹ فارم عزم، جسمانی و ذہنی صحت کے فروغ اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ ابھرتے ہوئے ایتھلیٹس کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ویژن 2032 کے تحت، جس کا مقصد پاکستانی رنرز کو اولمپکس کے لیے تیار کرنا ہے بی وائی ڈی ایم ایم سی مقامی ایتھلیٹس کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ نئی نسل کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ہر قدم پاکستان کو بلندیوں کی جانب لے جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Marathon mmc اسرار خٹک ایم ایم سی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرار خٹک ایم ایم سی کراچی میراتھن شراکت داری ایم ایم سی بی وائی ڈی کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔