لکی مروت اور بنوں میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4پولیس اہلکار شہید
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
لکی مروت اور بنوں میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4پولیس اہلکار شہید WhatsAppFacebookTwitter 0 4 January, 2026 سب نیوز
پشاور(سب نیوز)لکی مروت اور بنوں میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے تین ٹریفک اہلکار جبکہ بنوں میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔
لکی مروت میں ٹریفک پولیس اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی، شہید اہلکاروں میں انچارج ٹریفک پولیس نورنگ جلال خان، پولیس کانسٹیبل عزیز اللہ اور پولیس کانسٹیبل عبداللہ شامل ہیں۔اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، شہید اہلکاروں کو نورنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
دوسری جانب، بنوں کے تھانہ منڈان کی حدود کفشی خیل میں پولیس اہلکار رشید خان موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے شہید ہوگیا۔ ترجمان پولیس کے مطابق بنوں ریجن میں چار گھنٹوں کے دوران چار پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایلون مسک کا وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان ایلون مسک کا وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی چینی وزیر سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر غور تحریک تحفظ آئین پاکستان کا قومی مذاکراتی کمیٹی کی قومی کانفرنس میں شرکت سے انکار بھکر میں یومِ ولادتِ باسعادت حضرت علیؓ کے موقع پر جشنِ مولودِ کعبہ و محفلِ سماع کا انعقاد مسلم لیگ (ن) عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے، مضبوط پاک فوج ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے: رانا منان خان قومی معیشت پر اثر انداز ٹیکس مقدمات کے فوری فیصلے ترجیح ہوں گے: چیف جسٹسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پولیس اہلکار شہید کی فائرنگ سے لکی مروت
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔