Islam Times:
2026-06-02@22:16:38 GMT

ایران میں ہونیوالے حالیہ احتجاج پر ایک سرسری نگاہ

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

ایران میں ہونیوالے حالیہ احتجاج پر ایک سرسری نگاہ

اسلام ٹائمز: حالیہ بدامنی میں جو کچھ دیکھا گیا، انکو چند لفظوں میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔ معاشی مطالبات جائز تھے، لیکن انقلاب مخالف قوتوں نے حالات سے سوئے استفادہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا کی مبالغہ آرائی اور بیرونی مداخلت پر مبنی بیانات نے طویل مدتی سکیورٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ حقیقت پسندانہ تجزیہ اور آئندہ کی پیش بندی کیلئے ضروری ہے کہ احتجاج کے حق کو تسلیم کیا جائے اور غیر مستحکم کرنیوالے غیر ملکی منصوبوں کو عوامی مطالبات کی لہر پر سوار ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ ایرانی عوام اقتصادی دباؤ میں ہے، لیکن وہ کسی متبادل نظام کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

تہران اور ملک کے بعض شہروں میں گذشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے مظاہرے ابتدا میں اقتصادی نعروں اور معیشت کی بہتری کے مطالبے سے شروع ہوئے، لیکن بعد میں شرپسند عناصر نے ان مظاہروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ شرح مبادلہ میں شدید اتار چڑھاؤ، لین دین کے اخراجات میں اضافہ اور قیمتوں میں عدم استحکام نے کاروبار پر براہ راست دباؤ ڈالا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت کے حامی اور اسلامی نظام سے وابستہ تجار نے اقتصادی مطالبات کے ذریعے، کرنسی کی پالیسیوں میں استحکام اور مہنگائی پر قابو پانے کے لئے صدائے احتجاج بلند کی۔ ایک ایسا مسئلہ جس پر رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے بھی اپنی حالیہ تقریر میں اسکو جائز ردعمل قرار دیا ہے۔ البتہ انہوں نے جائز احتجاج اور بدامنی میں واضح فرق بیان کرتے ہوئے مطالبات کے اصول کا دفاع کیا اور اس بات پر زور دیا کہ معاشی احتجاج اور اقتصادی مشکلات کے مسائل کا اظہار قابل فہم اور جائز ہے، لیکن ان مطالبات کو لیکر استحصالی و سامراجی عناصر کو اس بات کی اجازت نہ دی جائے  کہ وہ ملک میں تباہی اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کر دیں۔

رہبر معظم کا یہ موقف درحقیقت احتجاج اور بدامنی کے درمیان نظام کی مستقل سرخ لکیر پر دوبارہ تاکید ہے۔
1۔ گذشتہ برسوں کے تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض شرپسند منظم تحریکیں ہمیشہ اس انتظار میں رہتی ہیں کہ لوگوں کے جائز فطری مطالبات کو سڑکوں پر جھڑپوں، سرکاری املاک کی تباہی اور عدم تحفظ کی طرف دھکیل دیں۔ یہ رجحان  حالیہ بدامنی میں بھی دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ان شرپسند عناصر کا وجود واضح ہے اور اسے چھپایا نہیں جا سکتا، کیونکہ دہشت گردانہ نوعیت کے یہ گروہ انقلاب کے آغاز سے ہی اس طرح کی کارروائیاں کرنے کے لیے آمادہ رہتے ہیں۔ ایم کے او سے لے کر علیحدگی پسندوں تک، یہ سب بدامنی میں اپنی موجودگی کو چھپانے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔

2۔ اگرچہ اس دفعہ کی بدامنی کا میدانی دائرہ محدود اور بکھرا ہوا تھا، لیکن مغربی اور ایران مخالف میڈیا نے اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ ایران کے بارے میں حکومت مخالف ماحول بنانے کی کوشش کرنے والے نیٹ ورکس نے ملک گیر اور بے مثال احتجاج کی تصویر بنانے کی بھرپور کوشش کی، حالانکہ ان مظاہروں کا دائرہ صرف مارکیٹ تک محدود تھا، لیکن انہی گروہوں کی موجودگی سے اسے سرحدی شہروں تک پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ اسی ماحول میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عجلت اور مداخلت پسندانہ ردعمل کے ساتھ خود کو احتجاج کے حامی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی اور مداخلت اور کارروائی کی بات بھی کی۔ ایسا موقف جس میں عملی مدد سے زیادہ میڈیا کو چارہ فراہم کرنا تھا۔ ترامپ کی طرف سے عملی مداخلت کی دھمکی نفسیاتی دباؤ  کو بڑھانے کے منصوبے کے تحت کی گئی تھی۔ ذرائع ابلاغ کی مبالغہ آرائی اور واشنگٹن کے سیاسی بیانات کے درمیان یہ ہم آہنگی ظاہر کرتی ہے کہ بدامنی، خواہ وہ محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو، فوری طور پر ایران کے خلاف نفسیاتی کارروائیوں کا چارہ اور خوراک بن جاتی ہے۔

3۔ حالیہ بدامنی اور تجار کے احتجاج کے درمیان ایک خاص مسئلہ کچھ جگہوں پر تربیت یافتہ اور بعض اوقات مسلح عناصر کی موجودگی تھی۔ ایک ایسا مسئلہ، جس کا تذکرہ سکیورٹی اداروں نے بھی کیا۔ تعداد کم ہونے کے باوجود، کیونکہ وہ تربیت یافتہ تھے، لہذا وہ زیادہ شدت کے ساتھ عدم تحفظ پیدا کر رہے تھے۔ کچھ غیر ملکی حکام اور شخصیات نے بھی بیرونی اداکاروں کے کردار کی طرف اشارہ کیا۔ ان میں سے ایک ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران میں بدامنی میں موساد سمیت انٹیلی جنس سروسز کے کردار کے بارے میں باقاعدہ اعتراف کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کے منصوبوں کا بنیادی ہدف ایران کے سماجی دفاع کو کمزور کرنا، یعنی اندرونی ہم آہنگی کو کم کرنا اور معاشرے کو مستقبل کے ممکنہ کشیدہ حالات سے خوفزدہ کرنا ہے۔ اندرونی انتشار اور عدم تحفظ دشمن کی ممکنہ مہم جوئی کے لیے میدان فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب انہی عناصر نے 12 روزہ جنگ کے دوران سلامتی کو درہم برہم کرنے والی صیہونی حکومت کی پیادہ فوج کا کردار بھی ادا کیا۔ خودکش ڈرون تیار کرنے کے علاوہ ملک کے مغربی شہروں اور مشرقی علاقوں میں بعض علیحدگی پسند گروہوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے باقاعدہ اپنی آمادگی کا کھلم کھلا اعلان کیا تھا، جسے رائٹرز نیوز ایجنسی نے ایک خبر میں یوں  لکھا تھا۔ کرد اور بلوچ علیحدگی پسند قوتیں بغاوت کرنے اور اسرائیلی حکومت میں شامل ہونے کے لیے تیار تھیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح کچھ غیر ریاستی اداکار اندرونی بدامنی کو ایک بڑے سکیورٹی آپشن کے طور پر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

4۔ وینزویلا میں گذشتہ روز پیش آنے والے واقعات اور ملک کے جائز صدر کے اغوا کے بارے میں گذشتہ رات ڈونلڈ ٹرمپ کے ریمارکس نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا کہ میڈیا اور اسٹریٹ اپوزیشن لازمی طور پر طاقت کے اہم اداکار نہیں ہیں، بلکہ انہیں منتقلی کے ادوار میں اکثر اوقات دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مادورو کے اغوا کے حالیہ واقعے میں ملک کی حزب اختلاف کی اہم شخصیات غیر ملکی طاقتوں کے فیصلوں کی وجہ سے مات ہوگئیں۔ مثال کے طور پر، ماریا کورینا ماچاڈو، وینزویلا کی حزب اختلاف کی ایک نمایاں شخصیت (جس نے بارہا واشنگٹن سے زبانی حمایت حاصل کی ہے اور امن کا نوبل انعام حاصل کیا ہے،) کو ٹرمپ نے ایسے شخص کے طور پر بیان کیا، جسے وینزویلا میں ضروری حمایت اور احترام حاصل نہیں ہے اور یہ ثابت کیا کہ ماچاڈو اور جوآن گوائیڈو جیسے لوگوں کی حمایت اسٹریٹجک اور عارضی ہے اور ان کی حیثیت ٹشو پیپرز سے بڑھ کر نہیں ہے۔

یہ ماڈل ایران کی کچھ ریڈیکل اصلاح پسند شخصیات اور انقلاب مخالف ایرانی تارکین وطن سے خاصی مماثلت رکھتا ہے۔ وہ لوگ جو عام طور پر کسی بھی بدامنی کی صورت میں فوری طور پر بدامنی کا ساتھ دینے کا نعرہ لگاتے ہیں، ان کا مستقبل زیادہ روشن نہیں ہوتا۔ وہ احتجاج کی لہر پر سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، موجود شخصیات یا حکام کا متبادل بننے کی صلاحیت سے محروم ہونے یا حقیقی عوامی حمایت اور بنیاد کے بغیر دشمن کے مددگار بن جاتے ہیں۔ حالیہ بدامنی میں جو کچھ دیکھا گیا، ان کو چند لفظوں میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔ معاشی مطالبات جائز تھے، لیکن انقلاب مخالف قوتوں نے حالات سے سوئے استفادہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا کی مبالغہ آرائی اور بیرونی مداخلت پر مبنی بیانات نے طویل مدتی سکیورٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ حقیقت پسندانہ تجزیہ اور آئندہ کی پیش بندی کے لئے ضروری ہے کہ احتجاج کے حق کو تسلیم کیا جائے اور غیر مستحکم کرنے والے غیر ملکی منصوبوں کو عوامی مطالبات کی لہر پر سوار ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ ایرانی عوام اقتصادی دباؤ میں ہے، لیکن وہ کسی متبادل نظام کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حالیہ بدامنی کے بارے میں کی کوشش کی احتجاج کے کے طور پر غیر ملکی بنانے کی لیکن ان ہے اور اور اس نے بھی کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا