data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فیصل آباد: مشیر وزیر اعظم اور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اگر آج کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کو سزا مل رہی ہے تو اسے اچھالا نہ جائے، یہ مکافاتِ عمل ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

فیصل آباد کے علاقے 30 چک میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ آج گیس کی فراہمی کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا ہے، جن لوگوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا وہ بھی درخواستیں جمع کروائیں، ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ووٹ نہ دینے والوں کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی اور ان کی درخواستوں پر بھی کام کیا جائے گا، کیونکہ ملک کی تعمیر و ترقی وزیراعظم شہباز شریف کا واضح ویژن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ قومی اسمبلی میں نہیں پہنچ سکے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے بھی بڑی ذمےداری یعنی سینیٹ کی رکنیت عطا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے حلقے سے چھٹی بار انتخابی کامیابی حاصل کی گئی، جبکہ میاں نواز شریف نے سیاست میں عوامی خدمت کی روایت ڈالی جو اس سے پہلے موجود نہیں تھی۔

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ سابقہ حکومت میں ان کے خلاف ایسا مقدمہ بنایا گیا جس میں سزائے موت تک کا امکان تھا اور وہ چھ ماہ جیل میں رہے۔ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ نفرت کا بیج بویا جائے تو اس کے نتائج بھی اسی صورت میں سامنے آتے ہیں، اس لیے آج اگر کسی کو سزا مل رہی ہے تو شور مچانے کے بجائے اسے مکافاتِ عمل سمجھنا چاہیے۔

ویب ڈیسک فاروق اعظم صدیقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم