Jasarat News:
2026-06-02@22:41:03 GMT

شمس سواتی کا دورہ بلوچستان

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی کی ہمیشہ سے روایت رہی ہے کہ دفتر میں بیٹھ کر ڈیسک ورک کرنے کے بجائے ملک کے دور دراز علاقوں کا دورہ کرکے مزدور طبقے کی حالت زار اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور موقع پر جاکر لیبر کمیونٹی کے مسائل معلوم کرکے ان کے حل کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا جنوبی پنجاب کے دورے کے اختتام پر جنوبی پنجاب کے صحت افزا مقام فورٹ منرو کی شدید سردی میں رات بسر کی ،تاکہ فجر میں بلوچستان کی سرزمین میں داخل ہوسکیں۔ اب تک ان کے قافلے میں پی ٹی سی ایل ورکرز اتحاد فیڈریشن پاکستان کے سینئر وائس پریذیڈنٹ وحید حیدرشاہ اور ڈرائیور فرہاد خان شامل تھے۔ مگر جب پنجاب کی سرحد عبور کی تو رکی ہوئی ٹریفک دیکھ کر پریشانی ہوئی۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ کچھ سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے راستہ بندہے۔ ہمیں اپنا دورہ خطرے میں محسوس ہوا مگر اگلے ہی لمحے پاک فوج کے چاک و چوبند جوان نے راستہ کھلنے کی نوید دی۔ رات بھر کی ٹریفک بندی کے بعد ہماری پہلی گاڑی تھی ، نیشنل لیبر فیڈریشن بلوچستان کے نائب صدر محمد ولی صباون اور امیر جماعت اسلامی ضلع لورالائی عبد الحمید ناصر ساتھیوں سمیت استقبال کیا۔
اس کے بعد ’’ عبد الرحیم خان کلب‘‘ میں لیبر سیمینار کی صدارت کے لیے لے جایا گیا۔
جہاں پر مزدوری کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ اس سیمینار سے ضلعی سطح کی سیاسی قیادت ،آزاد پینل کے سربراہ شاہ محمد کمانڈر، BNP مینگل کے ضلعی صدرہاشم اتمان خیل، قبائلی رہنما امان اللہ ملازئی، اخترمحمد ترکئی،ضلعی امیر جماعت اسلامی عبد الحمید ناصر اور جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما زاہد قیوم، صدر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ امن و امان کی ایسی صورتحال پیدا کی جائے کہ محنت کش پرسکون ہوکر اپنی محنت مزدوری کرسکیں۔

یہاں سے ہمارے قافلے میں محمد ولی صباون بھی شامل ہوگئے اورہم کانکنوں کے مرکز دکی روانہ ہوگئے۔ راستے میں صباون بھائی نے میری جینز جیکٹ اور جاگر پر مشتمل میرے لباس کی طرف توجہ دلائی اور بلوچستان کے مخصوص حالات کا حوالہ دیا۔ چنانچہ میں دکی پہنچتے ہی بلوچی طرز پر سلی شلوار قمیض زیب تن کی اور سر پر پختون چترالی ٹوپی لے کر چادر اوڑھ لی۔
دکی میں NLF کے مقامی رہنما عبد المجید شاہ نے کانکنوں کے ہمراہ پرتپاک استقبال کیا۔اور ایک مقامی ہوٹل پر جمع محنت کشوں کے پنڈال میں لے گئے۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ امن و امان کی مخدوش صورتحال میں کام نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے کان کن اپنے اپنے آبائی علاقوں میں لوٹ چکے ہیں۔ محنت کشوں نے اپنے مسائل صدر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کو بتائے جو انہوں بڑی غور سے سنے اور تحریری شکل میں نوٹ کیے اور ان کے حل کے لیے کوشش کا وعدہ کیا۔ پھر انہوں نے محنت کشوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ دکی سے رخصت ہونے کے بعد ہم کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے۔ کوئٹہ جانے کے لیے ہمارے سامنے ایک روٹ جو قلعہ سیف اللہ کی طرف سے تھا جبکہ دوسرا زیارت کی طرف سے۔ ہم زیارت والا روٹ اختیار کیا۔ شاید دل میں یہ بات تھی کہ وہ تاریخی شہر دیکھا جائے جہاں قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ سر سبز پہاڑی وادی میں صنوبر کے درختوں نے زیارت کی آمد کا پتا دیا۔ یہاں پر رکنے کی دعوت قیم ضلع مجیب بھائی کی طرف میں موجود تھی۔ مگر ہم نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ہمارے پورے دورے کا سب سے مشکل سفر ثابت ہوا۔ زیارت سے کوئٹہ تک تمام سڑک توڑ دی گئی تھی تاکہ نئی بنے مگر سڑک کا کام انتہائی سست روی سے جاری تھا۔ہمارا مقامی ساتھی بھی شاید اس صورتحال سے آگاہ نہ تھا۔بعض جگہوں پر تو سڑک کے نشانات تک بھی موجود نہ تھے۔ اور ہمارا ڈرائیور اس بھیانک صورت حال میں گاڑی سرپٹ دوڑا رہا تھا۔ہر طرف اندھیری رات تھی۔پھر خدا خدا کرکے ہم کوئٹہ پہنچے۔ جہاں ’’الفلاح ہاؤس‘‘ میں صوبائی صدر NLF ارشد یوسفزئی نے ساتھیوں سمیت استقبال کیا۔

اگلی صبح دفتر پریم یونین ریلوے اسٹیشن پر مزدور رہنماؤں کے اجتماع سے صدر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے خطاب کیا۔ اس اجلاس میں پی ٹی سی ایل کے رہنماؤں چھتہ جمالی،میر ظفر رئیسانی، قائم الدین لہڑی اور عبداللہ جان کانگو نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس کے جنرل سیکرٹری NLF بلوچستان عمر حیات کی معیت میں ڈاریکٹر جنرل لیبر ویلفیئر بشیر شاہوانی سے صدر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے مزدور طبقے کے مسائل کے حل کے لیے ملاقات کی۔ اس کے کوئٹہ پریس کلب میں صوبائی قیادتِ کے ہمراہ شمس الرحمن سواتی لیبر مسائل پر ایک پرہجوم نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس کے بعد صدر NLF نے مائن اونرز کی ملک گیر تنظیم آل پاکستان مائنز اونرز ایسوسی ایشن کے دفتر کا وفد کے ہمراہ دورہ کیا۔ جہاں پر مالکان کی تنظیم کے صدر میر بہروز ریگی اور جنرل سیکرٹری فتح شاہ عارف سے کانکنوں کے مسائل اور مجوزہ مائنز اینڈ منرل بل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے اپنی بل تجاویز صدر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان سے شیئر کیں۔ اس کے شمس الرحمن سواتی نے صوبائی قیادت کے ہمراہ محنت کشوں کی بچیوں کے لیے قائم ایک ووکیشنل ٹریننگ اسکول کا دورہ کیا۔ اس کے بعد صدر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے وفد کے ہمراہ آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا۔ جہاں مزدور رہنما لالہ سلطان کے ساتھ لیبر کوڈ میں مجوزہ ترامیم پر گفتگو کی۔ آج کا آخری پروگرام امیر جماعت اسلامی بلوچستان و ممبر صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی طرف سے دیا جانے والا عشائیہ تھا۔ اس عشائیہ کے موقع پر شمس الرحمن سواتی نے گوادر میں موجود فشری سے متعلق لیبر کے مسائل پر مولانا ہدایت الرحمن بلوچ سے تفصیلی گفتگو کی۔
اگلی صبح ہماری منزل پاکستان میں شپ بریکنگ انڈسٹری کے مرکز گڈانی تھی۔ جہاں پر ہمارا استقبال عزیز الحق خان اور جان محمد مری ایڈووکیٹ نے کیا۔ انہوں نے صدر NLF کے وفد کو شپ یارڈ کا تفصیلی دورہ کروایا۔ اور وہاں پر موجود اس صنعت سے وابستہ مزدوروں سے ملاقات کروائی۔ اس ملاقات میں اس صنعت سے وابستہ مزدوروں کے مسائل زیر بحث آئے۔ یہاں پر مزدورں کو منظم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ تاکہ ان کے مسائل کا خاطر خواہ حل نکالا جاسکے۔ رات گئے ساتھیوں نے حب چوکی سے کراچی کے لیے رخصت کیا۔

وحید حیدر شاہ گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صدر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے شمس الرحمن سواتی جماعت اسلامی کے ہمراہ کے مسائل نے اپنے کا دورہ کے بعد کی طرف کے لیے

پڑھیں:

فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی