سٹی 42 : پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے اور سینئر پارٹی رہنما ڈاکٹر ضیا اللہ بنگش 82برس کی عمر میں انتقال کرگئے، مرحوم کی نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا.

 واضح رہے کہ ضیاء اللہ خان بنگش کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ سے ہے اور وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ضیاء اللہ بنگش نے اپنے پارلیمانی کیریئر کا آغاز پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کیا۔ وہ طویل عرصے تک پارٹی کے وفادار رکن رہے اور کوہاٹ میں پی ٹی آئی کو فعال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

کراچی میں ایک اور ناخوشگوار واقعہ، 3 افراد کنوئیں میں گر گئے

 جولائی 2023 میں تحریک انصاف میں تقسیم کے بعد، انہوں نے پرویز خٹک کی قیادت میں بننے والی نئی جماعت "پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز" میں شمولیت اختیار کر لی۔

  وہ پہلی مرتبہ 2013 کے عام انتخابات میں حلقہ PK-38 (کوہاٹ-II) سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2018 کے انتخابات میں وہ دوبارہ حلقہ PK-82 (کوہاٹ-III) سے رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

 ستمبر 2018 میں انہیں وزیراعلیٰ محمود خان کا مشیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم (Elementary and Secondary Education) مقرر کیا گیا۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے تعلیمی اصلاحات اور اساتذہ کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی۔

پنجاب حکومت کا اس سال سیلابی خطرات سے بچاؤ کیلئے اہم فیصلہ

 بعد ازاں، انہیں سائنس، ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (ST&IT) کا قلمدان سونپا گیا۔اپریل 2021 میں انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے استعفیٰ کی وجہ اپنے حلقے کے عوام پر زیادہ توجہ دینا اور بعض ناگزیر وجوہات بتائیں۔

 سیاست میں آنے سے قبل انہوں نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی، جس نے ان کے سیاسی فہم و ادراک میں اہم کردار ادا کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان