وفاقی وزارتِ تعلیم کا بڑا فیصلہ: نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ 2026 میں پہلی بار نجی سکولز بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
وفاقی وزارتِ تعلیم کا بڑا فیصلہ: نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ 2026 میں پہلی بار نجی سکولز بھی شامل WhatsAppFacebookTwitter 0 4 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(سب نیوز) وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے پاکستان کے تعلیمی جائزے (Learning Assessment) کے نظام میں بڑی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے پہلی بار نجی شعبے کے سکولوں کو بھی ‘نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ’ (این اے ٹی) 2026 میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس شمولیت کے ساتھ ساتھ وزارت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار قومی سطح پر ‘نیشنل فاؤنڈیشنل لرننگ اسسمنٹ’ منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ ابتدائی جماعتوں میں تعلیمی نتائج کو جانچا جا سکے۔
میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے بتایا کہ وزارت نے قومی اسسمنٹ فریم ورک کو پائیدار ترقی کے اہداف (SDG-4) کے اشاریوں سے ہم آہنگ کیا ہے۔ اس کا مقصد تعلیمی معیار پر قابلِ بھروسہ اور تقابلی شواہد اکٹھے کرنا ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر رپورٹنگ کے وعدوں کو پورا کیا جا سکے۔
اسسمنٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ندیم محبوب نے کہا کہ یہ امتحانات پانچویں اور آٹھویں جماعت کی سطح پر منعقد ہوں گے جن میں تمام صوبوں اور علاقوں کے سکولز شامل ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ نجی شعبے کو اس دائرہ کار میں لانے سے ملک بھر میں تعلیمی نتائج کی ایک جامع اور حقیقی تصویر سامنے آئے گی۔
نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ 2026 اور نیشنل فاؤنڈیشنل لرننگ سٹڈی کے تحت سائنسی بنیادوں پر سیمپلنگ کے ذریعے 20 ہزار سے زائد طلباء کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ نتائج کی شفافیت اور درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ 2023 کے نتائج میں “سنگین تعلیمی بحران” کی نشاندہی ہوئی تھی، جس کی بنیاد پر وزیراعظم پاکستان نے ‘ایجوکیشن ایمرجنسی’ نافذ کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکول سے باہر بچوں کی واپسی اور ان کی تعلیمی ضروریات پوری کرنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اس منصوبے پر عملدرآمد ‘پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن’ (پی آئی ای) کرے گا جسے امریکن انسٹی ٹیوٹس فار ریسرچ (اے آئی آر) کی تکنیکی معاونت حاصل ہوگی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا گلگت بلتستان کے برزل پاس میں برفانی تودے گرنے کے نتیجے میں پاک فوج کے شہیدا کو خراجِ عقیدت چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا گلگت بلتستان کے برزل پاس میں برفانی تودے گرنے کے نتیجے میں پاک فوج کے شہیدا کو... روسی وزارتِ خارجہ کی وینزویلا کے خلاف امریکی مسلح کارروائی کی شدید مذمت وینزویلا میں امریکی حملے میں گرفتار صدر نکولس مادورو نیویارک پہنچا دیا گیا وینزویلا کسی کی کالونی نہیں بنے گا، امریکی کارروائی پر نائب صدر کا دو ٹوک اعلان حضرت علیؓ کی ولادت باسعادت کی تقریبات عقیدت واحترام سے منائی گئیں راولپنڈی: ڈکیت گینگ کے 4 ڈاکو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پہلی بار
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔