Express News:
2026-07-24@06:28:56 GMT

تعلیمی پالیسیاں اور زمینی حقائق

اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT

پاکستان میں تعلیم پر ہونیوالی بحث عموماً نصاب، امتحانات اور داخلہ شرح تک محدود رہتی ہے۔ بلاشبہ یہ امور اہم ہیں، لیکن ایک نہایت بنیادی مسئلہ مسلسل نظر اندازکیا جا رہا ہے، اسکولوں کے اوقات اور تعطیلات کا نظام۔

جب پاکستان 2025 میں شدید موسمی دباؤ اور بدلتی ہوئی سماجی حقیقتوں کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، تو یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ تعلیمی شیڈول جو دہائیوں پہلے ترتیب دیے گئے تھے، آج کے حالات کے مطابق نہیں رہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت موسمی حالات نسبتاً مستحکم تھے، شہروں میں رش کم تھا اور خاندانی زندگی کا انداز بالکل مختلف تھا۔

آج صورتِحال یکسر بدل چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے سردیوں کو شدید، بارشوں کو بے ترتیب اور سیلابوں کو معمول بنا دیا ہے، جس سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

اسی دوران شہری آبادی میں اضافہ اور معاشی دباؤ نے خاندانی ڈھانچے بدل دیے ہیں، جہاں اکثر گھروں میں والدین دونوں کل وقتی ملازمت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، اسکولوں کے اوقات اور تعلیمی کیلنڈر اب بھی ماضی میں جمی ہوئی تصویر پیش کرتے ہیں۔

سب سے سنگین مسئلہ اسکول تعطیلات، خصوصاً سردیوں کی چھٹیوں کا ہے۔ موجودہ نظام میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ چھٹیاں سردی کے عروج سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں اور بچوں کو شدید سرد موسم میں اسکول جانا پڑتا ہے۔

بڑے شہروں میں شاید یہ مسئلہ اتنا نمایاں نہ ہو، لیکن سندھ اور دیگر دیہی و دور دراز علاقوں میں یہ ایک حقیقی اذیت بن جاتا ہے۔ بہت سے بچے آج بھی طویل فاصلے پیدل طے کر کے اسکول پہنچتے ہیں، نہ مناسب گرم لباس میسر ہوتا ہے اور نہ ہی گرم کلاس رومز۔

سردی کے باعث بیماریاں، غیر حاضری اور تعلیمی کارکردگی میں کمی عام ہو جاتی ہے۔ اس بات کی بھرپور گنجائش موجود ہے کہ اسکول تعطیلات کم ازکم ایک مکمل ماہ کی ہوں اور انھیں اس طرح ترتیب دیا جائے کہ شدید سردی شروع ہونے سے پہلے ختم ہو جائیں۔

یہ اقدام بچوں کی صحت اور سلامتی کو ترجیح دیگا اور تعلیم کو نقصان پہنچائے بغیر بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند بچے باقاعدگی سے اسکول آتے ہیں اورکلاس روم میں بہتر انداز میں سیکھتے ہیں۔ اتنا ہی اہم مسئلہ اسکول شروع ہونے کے اوقات کا ہے۔

پاکستان میں بیشتر اسکول بہت صبح، اکثر 8 بجے سے بھی پہلے شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ سخت شیڈول خاص طور پر ان والدین کے لیے روزانہ کی پریشانی بن جاتا ہے جن کے دفاتر کے اوقات عموماً 9 بجے شروع ہوتے ہیں۔

اس عدم مطابقت کے باعث والدین کو جلدی، غیر محفوظ سفر یا غیر یقینی ٹرانسپورٹ انتظامات جیسے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اگر اسکول کا آغاز صبح 9 بجے کر دیا جائے تو یہ ایک عملی اور کم خرچ اصلاح ہو سکتی ہے۔

اس سے والدین کو کام پر جاتے ہوئے بچوں کو اسکول چھوڑنے میں آسانی ہوگی، خاص طور پر سردیوں کی تاریک اور سرد صبحوں میں جہاں حفاظتی خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ تعلیمی نقطہ نظر سے بھی دنیا بھر میں تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ قدرے دیر سے شروع ہونیوالے اسکول اوقات بچوں کی توجہ، جذباتی توازن اور مجموعی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔

پاکستان کو یقیناً اپنے حالات کے مطابق فیصلے کرنے ہونگے، مگر اس شواہد کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ یہ اصلاحات سرکاری اور نجی دونوں اسکولوں پر یکساں طور پر نافذ ہونی چاہئیں۔

جب تعلیمی پالیسی معاشی بنیادوں پر تقسیم ہوجائے تو اس کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ کسی بچے کی فلاح و بہبود اس بات پر منحصر نہیں ہونی چاہیے کہ وہ سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے یا نجی ادارے میں۔

تعطیلات اور اوقاتِ کار کے یکساں اصول پورے تعلیمی نظام میں انصاف، تسلسل اور جواب دہی کو فروغ دیں گے۔ ایک اور نہایت اہم مگر نظر انداز شدہ مسئلہ بچوں پر ڈالے جانیوالے ضرورت سے زیادہ تعلیمی بوجھ کا ہے، جس کی سب سے نمایاں مثال بھاری اسکول بیگ ہیں۔

پانچ سال کے معصوم بچے بھی ایسے بیگ اٹھائے نظر آتے ہیں، جو طبی طور پر تجویز کردہ وزن سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کمر درد، عضلاتی تناؤ، جسمانی ساخت کی خرابی اور طویل مدتی جسمانی مسائل جنم لیتے ہیں۔

جسمانی نقصان کے ساتھ ساتھ اس کے نفسیاتی اثرات بھی نہایت تشویشناک ہیں۔ آج کے بچے نصاب، مسلسل امتحانات اور غیرحقیقی توقعات کے دباؤ میں جکڑے ہوئے ہیں۔ والدین بھی ہوم ورک، ٹیوشن اور کارکردگی کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔

یہ ماحول ذہنی دباؤ، جذباتی تھکن اور سیکھنے اور خوشی کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو جنم دیتا ہے۔ جو تعلیمی نظام بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچائے، وہ بالآخر اپنے ہی مقاصد کو ناکام بنا دیتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی عزم ناگزیر ہے۔

قانون سازوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اسکول اوقات، تعطیلات اور تعلیمی بوجھ معمولی انتظامی امور نہیں بلکہ عوامی فلاح کے بنیادی معاملات ہیں۔ خصوصاً خواتین اراکینِ پارلیمان اس بحث کی قیادت کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں، کیونکہ وہ بطور ماں اور سماجی نمایندہ خاندانوں اور بچوں کے روزمرہ مسائل کو بخوبی سمجھتی ہیں۔

موسمی حالات کے مطابق تعلیمی کیلنڈر، مناسب اسکول اوقات، اسکول بیگ کے وزن کی حد اور ان قوانین کا سخت نفاذ، یہ سب قانون سازی کا تقاضا کرتے ہیں۔ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز کی اندھی نقل نہیں کر سکتا۔ وہاں جدید انفراسٹرکچر، قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ، موسم کے مطابق کلاس رومز اور مضبوط سماجی تحفظ کے نظام موجود ہیں۔

اسکول شیڈول میں اصلاح کا مطلب معیار کم کرنا نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں بچے محفوظ، صحت مند اور مؤثر طریقے سے سیکھ سکیں۔ تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ اس ماحول سے تشکیل پاتی ہے جس میں سیکھنے کا عمل ہوتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی، والدین کے کام کے اوقات اور بچوں کی صحت کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ اگر پاکستان واقعی اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام کو حال کی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اسکول اوقات اور تعطیلات پر نظرِ ثانی کوئی عیش نہیں، بلکہ ایک فوری اور ناگزیر ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سہیلیوں کے قصے اسکول اوقات اوقات اور کے اوقات کے مطابق بچوں کی اسکول ا شروع ہو کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت