تعلیمی پالیسیاں اور زمینی حقائق
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
پاکستان میں تعلیم پر ہونیوالی بحث عموماً نصاب، امتحانات اور داخلہ شرح تک محدود رہتی ہے۔ بلاشبہ یہ امور اہم ہیں، لیکن ایک نہایت بنیادی مسئلہ مسلسل نظر اندازکیا جا رہا ہے، اسکولوں کے اوقات اور تعطیلات کا نظام۔
جب پاکستان 2025 میں شدید موسمی دباؤ اور بدلتی ہوئی سماجی حقیقتوں کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، تو یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ تعلیمی شیڈول جو دہائیوں پہلے ترتیب دیے گئے تھے، آج کے حالات کے مطابق نہیں رہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت موسمی حالات نسبتاً مستحکم تھے، شہروں میں رش کم تھا اور خاندانی زندگی کا انداز بالکل مختلف تھا۔
آج صورتِحال یکسر بدل چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے سردیوں کو شدید، بارشوں کو بے ترتیب اور سیلابوں کو معمول بنا دیا ہے، جس سے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
اسی دوران شہری آبادی میں اضافہ اور معاشی دباؤ نے خاندانی ڈھانچے بدل دیے ہیں، جہاں اکثر گھروں میں والدین دونوں کل وقتی ملازمت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، اسکولوں کے اوقات اور تعلیمی کیلنڈر اب بھی ماضی میں جمی ہوئی تصویر پیش کرتے ہیں۔
سب سے سنگین مسئلہ اسکول تعطیلات، خصوصاً سردیوں کی چھٹیوں کا ہے۔ موجودہ نظام میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ چھٹیاں سردی کے عروج سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں اور بچوں کو شدید سرد موسم میں اسکول جانا پڑتا ہے۔
بڑے شہروں میں شاید یہ مسئلہ اتنا نمایاں نہ ہو، لیکن سندھ اور دیگر دیہی و دور دراز علاقوں میں یہ ایک حقیقی اذیت بن جاتا ہے۔ بہت سے بچے آج بھی طویل فاصلے پیدل طے کر کے اسکول پہنچتے ہیں، نہ مناسب گرم لباس میسر ہوتا ہے اور نہ ہی گرم کلاس رومز۔
سردی کے باعث بیماریاں، غیر حاضری اور تعلیمی کارکردگی میں کمی عام ہو جاتی ہے۔ اس بات کی بھرپور گنجائش موجود ہے کہ اسکول تعطیلات کم ازکم ایک مکمل ماہ کی ہوں اور انھیں اس طرح ترتیب دیا جائے کہ شدید سردی شروع ہونے سے پہلے ختم ہو جائیں۔
یہ اقدام بچوں کی صحت اور سلامتی کو ترجیح دیگا اور تعلیم کو نقصان پہنچائے بغیر بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند بچے باقاعدگی سے اسکول آتے ہیں اورکلاس روم میں بہتر انداز میں سیکھتے ہیں۔ اتنا ہی اہم مسئلہ اسکول شروع ہونے کے اوقات کا ہے۔
پاکستان میں بیشتر اسکول بہت صبح، اکثر 8 بجے سے بھی پہلے شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ سخت شیڈول خاص طور پر ان والدین کے لیے روزانہ کی پریشانی بن جاتا ہے جن کے دفاتر کے اوقات عموماً 9 بجے شروع ہوتے ہیں۔
اس عدم مطابقت کے باعث والدین کو جلدی، غیر محفوظ سفر یا غیر یقینی ٹرانسپورٹ انتظامات جیسے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اگر اسکول کا آغاز صبح 9 بجے کر دیا جائے تو یہ ایک عملی اور کم خرچ اصلاح ہو سکتی ہے۔
اس سے والدین کو کام پر جاتے ہوئے بچوں کو اسکول چھوڑنے میں آسانی ہوگی، خاص طور پر سردیوں کی تاریک اور سرد صبحوں میں جہاں حفاظتی خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ تعلیمی نقطہ نظر سے بھی دنیا بھر میں تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ قدرے دیر سے شروع ہونیوالے اسکول اوقات بچوں کی توجہ، جذباتی توازن اور مجموعی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔
پاکستان کو یقیناً اپنے حالات کے مطابق فیصلے کرنے ہونگے، مگر اس شواہد کو نظر انداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ یہ اصلاحات سرکاری اور نجی دونوں اسکولوں پر یکساں طور پر نافذ ہونی چاہئیں۔
جب تعلیمی پالیسی معاشی بنیادوں پر تقسیم ہوجائے تو اس کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ کسی بچے کی فلاح و بہبود اس بات پر منحصر نہیں ہونی چاہیے کہ وہ سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے یا نجی ادارے میں۔
تعطیلات اور اوقاتِ کار کے یکساں اصول پورے تعلیمی نظام میں انصاف، تسلسل اور جواب دہی کو فروغ دیں گے۔ ایک اور نہایت اہم مگر نظر انداز شدہ مسئلہ بچوں پر ڈالے جانیوالے ضرورت سے زیادہ تعلیمی بوجھ کا ہے، جس کی سب سے نمایاں مثال بھاری اسکول بیگ ہیں۔
پانچ سال کے معصوم بچے بھی ایسے بیگ اٹھائے نظر آتے ہیں، جو طبی طور پر تجویز کردہ وزن سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کمر درد، عضلاتی تناؤ، جسمانی ساخت کی خرابی اور طویل مدتی جسمانی مسائل جنم لیتے ہیں۔
جسمانی نقصان کے ساتھ ساتھ اس کے نفسیاتی اثرات بھی نہایت تشویشناک ہیں۔ آج کے بچے نصاب، مسلسل امتحانات اور غیرحقیقی توقعات کے دباؤ میں جکڑے ہوئے ہیں۔ والدین بھی ہوم ورک، ٹیوشن اور کارکردگی کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔
یہ ماحول ذہنی دباؤ، جذباتی تھکن اور سیکھنے اور خوشی کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو جنم دیتا ہے۔ جو تعلیمی نظام بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو نقصان پہنچائے، وہ بالآخر اپنے ہی مقاصد کو ناکام بنا دیتا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے سیاسی عزم ناگزیر ہے۔
قانون سازوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ اسکول اوقات، تعطیلات اور تعلیمی بوجھ معمولی انتظامی امور نہیں بلکہ عوامی فلاح کے بنیادی معاملات ہیں۔ خصوصاً خواتین اراکینِ پارلیمان اس بحث کی قیادت کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں، کیونکہ وہ بطور ماں اور سماجی نمایندہ خاندانوں اور بچوں کے روزمرہ مسائل کو بخوبی سمجھتی ہیں۔
موسمی حالات کے مطابق تعلیمی کیلنڈر، مناسب اسکول اوقات، اسکول بیگ کے وزن کی حد اور ان قوانین کا سخت نفاذ، یہ سب قانون سازی کا تقاضا کرتے ہیں۔ پاکستان ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز کی اندھی نقل نہیں کر سکتا۔ وہاں جدید انفراسٹرکچر، قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ، موسم کے مطابق کلاس رومز اور مضبوط سماجی تحفظ کے نظام موجود ہیں۔
اسکول شیڈول میں اصلاح کا مطلب معیار کم کرنا نہیں، بلکہ ایسے حالات پیدا کرنا ہے جن میں بچے محفوظ، صحت مند اور مؤثر طریقے سے سیکھ سکیں۔ تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ اس ماحول سے تشکیل پاتی ہے جس میں سیکھنے کا عمل ہوتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی، والدین کے کام کے اوقات اور بچوں کی صحت کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ اگر پاکستان واقعی اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے تعلیمی نظام کو حال کی حقیقتوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اسکول اوقات اور تعطیلات پر نظرِ ثانی کوئی عیش نہیں، بلکہ ایک فوری اور ناگزیر ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سہیلیوں کے قصے اسکول اوقات اوقات اور کے اوقات کے مطابق بچوں کی اسکول ا شروع ہو کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔