9 مئی کیسز:آج عمران خان سےملاقات نہ کرائی گئی توعدالت اڈیالہ جیل حکام کوطلب کرے،وکیل بانی پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
9 مئی کے 11 مقدمات کی انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں سماعت ہوئی، تحریک انصاف کے وکیل فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اپنایا کہ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے۔
فیصل ملک نے کہا کہ امید کہ آج لیگل ٹیم کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کروائی جائے گی، اگر ملاقات نہیں کروائی جاتی تو یہ توہین عدالت ہے ہم عدالت سے استدعا کرینگے سپرنٹنڈنٹ کو طلب کرے۔
وکیل فیصل ملک نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے ہم نے نو مئی مقدمات حوالے سے ڈائریکشن لینی ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے سانحہ 9 مئی کے 11 کیسز سماعت کی 16 جنوری تک ملتوی کردی، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سماعت کی۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل روبکار پر حاضری لگائی گئی، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بھی جیل روبکار پر حاضری لگائی گئی۔
کیسوں کی سماعت کے لیے عدالت اور اڈیالہ جیل کا وڈیو لنک تیار نہ ہوا، آج بھی بانی چیئرمین تحریک انصاف کو مقدمات کے چالان نقول تقسیم نا ہوسکیں۔
وکلائے صفائی کی جیل میں بانی چیئرمین سے ملاقات کرانے کی درخواست بھی مسترد کردی گئی جب کہ فیصل ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمیں کیسوں بارے کلائینٹ سے ہدایات لینی ہیں آج ملاقات حکم دیا جائے۔
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، اعظم سواتی عدالت پیش ہوئے، ملزمان کی بھی عدالت میں پیشی پر حاضریاں لگائی گئیں۔
جی ایچ کیو گیٹ 4 حملہ ، آرمی میوزیم حملہ، صدر حساس ادارہ بلڈنگ اور میٹرو بس اسٹیشن جلانے، شمس آباد ڈبل روڈ، حساس ادارے پر پتھراؤ حملہ کیسز شامل ہیں۔عدالت نے آئندہ تاریخ پر چالان نقول تقسیم کرنے کا پراسس مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
شیخ رشید کی چیف جسٹس پاکستان سے دردمندانہ اپیل
سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے کہا ہے کہ آج صبح صبح چیف جسٹس پاکستان سے دردمندانہ اپیل ہے کہ 9 مئی کیسز میں ملزمان کی اپیلیں سنی جائیں، اتنی دیر ہوگئی اپیلیں ہی نہیں سنی جارہی۔
اے ٹی سی کورٹ راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ آج پھر ہم حاضری لگانے آئے تھے حاضری لگ گئی جج صاحب تاریخ ڈالیں گے، جب نو مئی کیسز ہوئے میں پاکستان میں ہی نہیں تھا۔
شیخ رشید نے کہا کہ آج صبح صبح چیف جسٹس پاکستان سے دردمندانہ اپیل ہے ملزمان کی اپیلیں سنی جائیں، اتنی دیر ہوگئی اپیلیں ہی نہیں سنی جارہی۔
ان کا کہنا تھا کہ اپیلیں سنیں انصاف مل سکے لوگوں کے گھروں کے چولھے بجھ گئے ہیں، مہنگائی بے روزگاری باعث لوگوں کے گھروں کے مسائل مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ اب پارٹی کی نئی لیڈر شپ ہے، میں نے ان پر بھروسہ کیا ہوا ہے، دیکھتا ہوں یہ کیا کرتے ہیں، 6 /7 جنوری کو سینٹ میں تقریر کرکے ذاتی لائحہ عمل پیش کروں گا۔
سینیٹر اعظم سواتی نے اے ٹی سی میں زیر سماعت نو مئی کے مقدمات میں پیشی کے بعد باہر موجود میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ظلم کی رات ختم اور عدل کا سورج طلوع ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہر لحاظ سے آگے جانا چاہیے، ادارے تباہ ہو چکے لیکن کوشش کرنی چاہیئے کہ یہ ملک بن اور بچ جائے، اسی لیئے خان صاحب نے مجھے کہا تھا کہ جا کر بات چیت کروں، اللہ کرے کہ ہمارے مزاج بدلیں۔
حالات کو دیکھیں اس کے مطابق ملک اور اداروں کو بچانے کی کوشش کریں۔ ایک صحافی کے سوال پر کہ خان صاحب نے کیا ٹاسک دیا تھا کہ مذاکرات میں یہ بات کریں؟ کے جواب میں اعظم سواتی نے کہا کہ میری رسائی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں آخری مرتبہ 2 اپریل 2025 کو آخری مرتبہ ان سے ملا تھا، میں نے خان صاحب کو کہا تھا کہ مجھے اپنی پارٹی والے نہیں چھوڑیں گے، اب جو لوگ ملتے ہیں پیغام لے کر آتے ہیں کہ وہ اس پاکستان کو کدھر لے کر جانا چاہتے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل اعظم سواتی بانی پی ٹی سے ملاقات نے کہا کہ پی ٹی آئی فیصل ملک تھا کہ
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔