سندھ یونیورسٹی افسران کی سینڈیکیٹ انتخابات ، سجاد حسین امیدوار بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-2-13
جام شورو(نمائندہ جسارت):سندھ یونیورسٹی جامشورو میں افسران کی سینڈیکیٹ انتخابات کے سلسلے میں سندھ یونیورسٹی آفیسر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر سید سجاد حسین شاہ افسران کی نمائندگی کے لیے امیدوار کے طور پر میدان میں آگئے۔ اِس سلسلے میں سید سجاد حسین شاہ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کا دورہ کرتے ہوئے افسران سے ملاقاتیں کر کے انہیں اپنے انتخابی منشور سے آگاہ کیا۔س موقع پر سید سجاد حسین شاہ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سندھ یونیورسٹی کے افسران کو متعدد انتظامی مالی اور سروس سے متعلق مسائل کا سامنا ہے جن کے حل کے لیے ایک مضبوط بااختیار اور دیانتدار نمائندگی نہایت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ آفیسر ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے ہمیشہ افسران کے مسا ئل کو ترجیحی بنیادوں پر اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر صدیق کلہوڑو نے چار سال کے دوران کسی بھی افسر کی ترقی پروموشن نہیں کی، بلکہ صرف اساتذہ کے ایک مخصوص گروپ کے کہنے پر فیصلے کیے گئے جس کے نتیجے میں کئی افسران بغیر ترقی کے ریٹائر ہو گئے۔ جبکہ اساتذہ کے مخصوص گروپ کے لوگوں کو کو ترقی دی گئی، اور متعدد افسران اساتذہ اور ملازمین کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔سید سجاد حسین شاہ نے بتایا کہ 2018 میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے یونیورسٹی ایکٹ میں افسران کے لیے سینڈیکیٹ کی ایک نشست تمام جامعات کے لیے منظور کروائی گئی تھی،مگر بدقسمتی سے افسران کی سینڈیکیٹ نمائندگی کے عمل کو کچھ عنا صر نے رکاوٹ کا شکار بنا دیا، اور اَب سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر 6 جنوری 2026 کو سینڈیکیٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں وہ بھی اْمیدوار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سید سجاد حسین شاہ سندھ یونیورسٹی افسران کی کے لیے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔