نارتھ ناظم آباد میں تاجر کے گھر پر مبینہ پولیس گھیراؤ چوکیدار سے پوچھ گچھ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-08-6
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نارتھ ناظم آباد میں ایک تاجر کے گھر پر علی الصبح مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے گھیراؤ کیے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ متاثرہ تاجر کے مطابق یہ واقعہ یکم جنوری کی صبح 5 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا ہے کہ پولیس اہلکار گھر کے باہر پہنچ کر گھنٹی بجاتے ہیں اور سیکورٹی عملے سے تاجر کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے رہے۔ متاثرہ تاجر ارشد کے مطابق ایک پولیس موبائل جس پر سی آئی اے تحریر تھا، گھر کے باہر موجود تھی جبکہ بغیر نمبر پلیٹ پولیس موبائل اور موٹر سائیکلوں پر مجموعی طور پر 9 پولیس اہلکار سوار تھے جن کے ساتھ چند افراد سادہ لباس میں بھی موجود تھے۔ تاجر کا کہنا ہے کہ ایک سادہ لباس شخص نے سیکورٹی گارڈ کو اس کی تصویر دکھا کر پوچھا کہ کیا یہی تمہارا مالک ارشد ہے؟ جس پر گارڈ نے بتایا کہ مالک گھر پر موجود نہیں جس کے بعد پولیس اہلکار واپس چلے گئے۔ ارشد کے مطابق اس کا اپنے بھائی کے ساتھ جائداد کا تنازع چل رہا ہے اور اسے شبہ ہے کہ بھائی نے مبینہ طور پر سی آئی اے اہلکاروں کو دھمکانے یا دباؤ ڈالنے کے لیے بھیجا۔ تاجر نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی چھاپے سے متعلق کوئی باضابطہ شکایت پولیس کو موصول نہیں ہوئی۔ پولیس کے مطابق بھائیوں کے درمیان جائداد کا تنازع موجود ہے اور پراپرٹی سے متعلق کیس عدالت میں بھی زیرسماعت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :