بلوچستان میں31 جنوری تک دفعہ 144نافذ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-08-8
کوئٹہ (مانیٹر نگ ڈ یسک )حکومت بلوچستان نے صوبے بھر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش و استعمال اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر31 جنوری تک پابندی عائد کر دی۔محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بلوچستان بھر میں دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش و استعمال موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، گاڑیوں پر سیاہ شیشوں کا استعمال، بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکلوں کی نقل و حرکت، پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات، جلوس یا ریلیاں اور عوامی مقامات پر چہروں کو چھپانے کے لیے مفلر یا ماسک کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پولیس، لیویز اور فرنٹیئر کور (FC) کو ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ حکم نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 اور دیگر متعلقہ قانونی دفعات کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر نفاذ کی رپورٹ محکمہ داخلہ کو ارسال کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔