ہیلتھ کیئر کمیشن کا زندہ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنیکا نوٹس‘ انکوائری کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واہ کینٹ (مانیٹر نگ ڈ یسک ) گزشتہ سال کے آخری دن ہولی فیملی اسپتال کی جانب سے مردہ قرار دیکرباقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ والدین کے حوالے کردیا۔ بچہ ہولی فیملی اسپتال میں وینٹی لیٹر پر اوربغیر وینٹی لیٹر کے 12 گھنٹے سے زائد وقت زندہ رہنے کے بعد چل بسا۔واہ کینٹ لالہ رخ کے عزت شاہ اسپتال میں روبینہ خاتون کے ہاں پری میچور جڑواں بچے بیٹا اور بیٹی پیدا ہوئے، جنہیں بعدازاں ایمبولینس کے ذریعے ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 31 دسمبر 2025ء کو اسپتال کے ڈاکٹروں نے بچی کو ایڈمٹ کرلیا جبکہ بچے کو مردہ قرار دے کر اس کا باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرکے ڈاکٹر طیبہ صدف نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر بچے کی ڈیڈ باڈی لواحقین کے حوالے کر دینے کی تحریر لکھ دی تاہم بچے کو جب ایمبولینس میں شفٹ کیا گیا تو ایمبولینس کو جھٹکا لگنے پر بچے نے ایک دم سانس لینا شروع کی تو اسے آکسیجن ماسک لگا دیا گیا۔والدین زندہ بچے اور ہاتھ میں اٹھائے اس کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ دوبارہ ہولی فیملی اسپتال پہنچے تو بچے کو وینٹی لیٹر لگایا گیا تو اس کی سانسیں بحال ہوگئیں۔اس صورتحال کو اسپتال انتظامیہ نے لازرس سینڈروم نامی کیفیت قرار دے دیا اور عجلت میں جاری کیے گے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر انکوائری رپورٹ مرتب کرکے سربمہر صورت میں سیکرٹری ہیلتھ کو بھجوا دی جبکہ ہولی فیملی اسپتال میں۔ 12 گھنٹے سے زیادہ وقت زندہ رہنے کے بعد بچے کی موت واقع ہونے پر بچے کی میت والدین کے حوالے کر دی گئی۔اس بچے کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی تاحال ہولی فیملی اسپتال میں زیر علاج ہے، ادھر پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ہمایوں انور کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔کمیٹی نے ہولی فیملی اسپتال اور عزت شاہ اسپتال واہ کینٹ لالہ رخ سے متعلقہ میڈیکل ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن اس معاملے میں اپنی پروسیڈنگ شروع کردی ہے، جس کے مکمل ہونے پر باقاعدہ رپورٹ مرتب کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہولی فیملی اسپتال ڈیتھ سرٹیفکیٹ اسپتال میں بچے کو
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔