data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260105-08-13
واہ کینٹ (مانیٹر نگ ڈ یسک ) گزشتہ سال کے آخری دن ہولی فیملی اسپتال کی جانب سے مردہ قرار دیکرباقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ والدین کے حوالے کردیا۔ بچہ ہولی فیملی اسپتال میں وینٹی لیٹر پر اوربغیر وینٹی لیٹر کے 12 گھنٹے سے زائد وقت زندہ رہنے کے بعد چل بسا۔واہ کینٹ لالہ رخ کے عزت شاہ اسپتال میں روبینہ خاتون کے ہاں پری میچور جڑواں بچے بیٹا اور بیٹی پیدا ہوئے، جنہیں بعدازاں ایمبولینس کے ذریعے ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 31 دسمبر 2025ء کو اسپتال کے ڈاکٹروں نے بچی کو ایڈمٹ کرلیا جبکہ بچے کو مردہ قرار دے کر اس کا باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرکے ڈاکٹر طیبہ صدف نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر بچے کی ڈیڈ باڈی لواحقین کے حوالے کر دینے کی تحریر لکھ دی تاہم بچے کو جب ایمبولینس میں شفٹ کیا گیا تو ایمبولینس کو جھٹکا لگنے پر بچے نے ایک دم سانس لینا شروع کی تو اسے آکسیجن ماسک لگا دیا گیا۔والدین زندہ بچے اور ہاتھ میں اٹھائے اس کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ دوبارہ ہولی فیملی اسپتال پہنچے تو بچے کو وینٹی لیٹر لگایا گیا تو اس کی سانسیں بحال ہوگئیں۔اس صورتحال کو اسپتال انتظامیہ نے لازرس سینڈروم نامی کیفیت قرار دے دیا اور عجلت میں جاری کیے گے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر انکوائری رپورٹ مرتب کرکے سربمہر صورت میں سیکرٹری ہیلتھ کو بھجوا دی جبکہ ہولی فیملی اسپتال میں۔ 12 گھنٹے سے زیادہ وقت زندہ رہنے کے بعد بچے کی موت واقع ہونے پر بچے کی میت والدین کے حوالے کر دی گئی۔اس بچے کے ساتھ پیدا ہونے والی بچی تاحال ہولی فیملی اسپتال میں زیر علاج ہے، ادھر پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ہمایوں انور کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔کمیٹی نے ہولی فیملی اسپتال اور عزت شاہ اسپتال واہ کینٹ لالہ رخ سے متعلقہ میڈیکل ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن اس معاملے میں اپنی پروسیڈنگ شروع کردی ہے، جس کے مکمل ہونے پر باقاعدہ رپورٹ مرتب کی جائے گی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہولی فیملی اسپتال ڈیتھ سرٹیفکیٹ اسپتال میں بچے کو

پڑھیں:

راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل

راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار  کرلیا۔

پولیس کے مطابق  بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے  کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔

والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو  بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔

پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان  کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق