دھند کے باعث موٹروے ایم تھری، ایم فور اور ایم فائیو مکمل بند
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) سینٹرل ریجن میں شدید دھند کے باعث مختلف موٹرویز اور قومی شاہرات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو گئی ہے، جس کے پیش نظر موٹروے پولیس نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلیے اہم موٹرویز کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ترجمان موٹروے پولیس سنٹرل ریجن سید عمران احمد کے مطابق لاہور ملتان موٹروے ایم تھری دھند کے باعث مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔اسی طرح بڑی گاڑیوں کیلیے موٹروے ایم ٹو لاہور سے کوٹ مومن تک دھند کے باعث بند ہے۔ موٹر وے ایم فور پنڈی بھٹیاں سے ملتان تک اور موٹروے ایم فائی ملتان سے روہڑی تک بھی دھند کی وجہ سے بند کر دی گئی ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ موٹرویز کی بندش کا مقصد کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچاؤ اور عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ دھند میں لین کی خلاف ورزی خطرناک حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دھند کے باعث موٹروے ایم
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔