پنجاب کے سینٹرل ریجن میں شدید دھند، موٹر وے کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہور:
پنجاب کے سینٹرل ریجن میں شدید دھند کے باعث موٹرویز کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔
ترجمان سینٹرل ریجن کے مطابق موٹروے ایم تھری فیض پور سے رجانہ تک دھند کے باعث بند ہے، جبکہ موٹروے ایم فور فیصل آباد سے ملتان تک ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ بڑی گاڑیوں کے لیے موٹروے ایم فائیو رحیم یار خان سے روہڑی تک دھند کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔ موٹرویز کی بندش کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے۔
موٹروے پولیس کے مطابق دھند میں لین کی خلاف ورزی خطرناک حادثات کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے روڈ یوزرز لین ڈسپلن پر سختی سے عمل کریں۔
مزید پڑھیںشدید دھند کے باعث موٹر وے کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند
پنجاب میں شدید دھند کے ڈیرے، موٹر وے کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دیں جبکہ دھند کے دوران صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک کے اوقات کو محفوظ سفری وقت سمجھا جائے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ڈرائیور حضرات فوگ لائٹس کا لازمی استعمال کریں، غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، تیز رفتاری نہ کریں اور آگے چلنے والی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔
کسی بھی رہنمائی یا مدد کے لیے موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند دھند کے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔