بنگلہ دیش کا بھارت میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لاہور (سپورٹس رپورٹر+نوائے وقت رپورٹ) بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی 20 ورلڈکپ کیلئے ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کر دیا۔ بنگلہ دیشی بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق بی سی بی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ہنگامی میٹنگ گزشتہ روز ہوئی جس میں بھارت اور سری لنکا میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی ڈویلپمنٹ سے متعلق جائزہ لیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور بورڈ آف گورنرز نے فیصلہ کیا کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم بھارت نہیں جائے گی۔ بورڈ کے مطابق اس فیصلے سے آئی سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا اور بنگلہ دیش بورڈ منتظر ہے آئی سی سی صورتحال کو سمجھتے ہوئے جلد اس معاملے پر جواب دے گا۔ بنگلادیش کے مشیر برائے کھیل ڈاکٹر آصف نذرالاسلام نے اعلان کیا کہ بنگلہ دیش ورلڈ کپ کھیلنے کیلئے بھارت کا دورہ نہیں کرے گا، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے آج اس فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں جو بھارتی کرکٹ بورڈ کی جارحانہ اور فرقہ وارانہ پالیسیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ بھارتی انتہا پسندوں کے دباؤ میں آ کر آئی پی ایل سے فاسٹ بائولر مستفیض الرحمان کو ریلیز کیا گیا جس کے بعد بھارت اور بنگلہ دیشی بورڈ میں کشیدگی بڑھی۔ ذرائع کے مطابق بی سی بی ورلڈ کپ میں اپنے میچز سری لنکا میں کرانے کا کہے گا، آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے بنگلہ دیش کے میچز بھارت میں شیڈولڈ ہیں۔ بنگلہ دیش نے تین میچز کلکتہ اورایک میچ ممبئی میں کھیلنا ہے۔ ورلڈ کپ کے میچ بھارت سے منتقل کرانے کی خبروں پر بی سی سی آئی نے ردعمل دیا ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ماہ باقی رہ جانے کی وجہ سے میچوں کا مقام تبدیل کرنا تقریباً ناممکن ہے، بی سی سی آئی کے مطابق کسی کی خواہش پر میچ نہیں بدل سکتے، یہ بہت مشکل ہے۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے ابتدائی تین میچ کولکتہ میں کھیلے جائیں گے جبکہ چوتھا میچ ممبئی میں 17 فروری کو شیڈول ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے مطابق
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔