بنگلہ دیش کی برآمدات 5ویں ماہ بھی کمزور، دسمبر میں 14 فیصد کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
بنگلادیش کی برآمدات دسمبر میں 5ویں مسلسل ماہ کمی کا شکار ہوئیں اور سالانہ بنیاد پر 14.25 فیصد کمی کے ساتھ 3.96 ارب ڈالر تک گر گئیں، جس کی بنیادی وجہ تیار شدہ ملبوسات (ریڈی میڈ گارمنٹس) کی عالمی طلب میں کمی بتائی جا رہی ہے۔
ملبوسات کے شعبے جو بنگلادیش کی برآمدات کا چار 5واں حصہ فراہم کرتا ہے نے بھی 14.
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں نئے آرڈیننس سے ہزاروں ٹریول ایجنٹس بےروزگار ہونے کا خطرہ، تشویش کا اظہار
سالانہ کمی کے باوجود، دسمبر کی برآمدات نومبر کے مقابلے میں 1.97 فیصد زیادہ رہیں، جو کچھ حد تک ماہانہ بہتری کی نشاندہی کرتی ہیں۔ بیورو نے کہا کہ یہ رجحان عالمی مارکیٹ کے چیلنجنگ حالات میں استحکام کی علامت ہے۔
مجموعی طور پر، بنگلادیش نے مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران 23.99 ارب ڈالر کی برآمدات سے آمدنی حاصل کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 2.19 فیصد کم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملبوسات کے آرڈرز پر مسلسل دباؤ، سورسنگ کے طریقوں میں تبدیلی اور مغربی ممالک میں کم طلب بنیادی خطرات ہیں، جن کی نگرانی خطے کے دیگر ممالک جیسے پاکستان بھی کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایکسپورٹس برآمدات بنگلہ دیش
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایکسپورٹس برا مدات بنگلہ دیش کی برآمدات
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔