Al Qamar Online:
2026-06-02@23:44:35 GMT

سال 2026ء … پاکستان کیلئے کیسا رہے گا ؟؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT

غیب کا علم بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے اور کوئی بھی انسان اس کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ انسانی علم کی بنیاد پر کیے جانے والے تجزیے اگرچہ حتمی نہیں ہوتے لیکن عوامی دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’نئے سال کی پشین گوئیوں‘‘ کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین علم الاعداد اور علم نجوم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم کی رپورٹ نذر قارئین ہے۔

سید انتظار حسین زنجانی

پاکستان کے دو زائچے ہیں، ایک 1947ء اور دوسرا 1971ء میں بنا۔ ہم دوسرے زائچے پر تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ زیادہ بہتر ہے۔ پاکستان کے زائچے میں 20 دسمبر 2024 سے زحل کی 19 سالہ مہادشہ کا دور شروع ہوا۔ زحل پاکستان کے زائچے میں سربراہ مملکت، عدلیہ، مذہبی اداروں، بینکنگ، نصیب اور خارجہ تعلقات کا مالک ہے۔

میں نے پہلے ہی پشین گوئی کر دی تھی کہ ملک کے بہتر دور کا آغاز ہونے والا ہے جسے بعض لوگوں نے خواہش قرار دیا۔ زحل ایک سست ستارہ ہے لہٰذا جیسے ہی سال کا پہلا کوارٹر گزرا تو مئی 2025ء میں پاکستان کو بھارت سے جنگ میں بڑی کامیابی ملکی جس سے عالمی سطح پر ہماری پذیرائی ہوئی اور سب نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان تیزی سے عالمی سطح پر کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ ملکی بہتری کا یہ دور اب 19 سال سے بھی بڑھ چکا ہے کیونکہ زحل کے بعد عطارد کادور شروع ہوگا جو پاکستان کے شعور اور ادراک کا دور ہے لہٰذا اس کے 17 سال بھی شامل کریں گے تو یہ 36 سال بنتے ہیں جو 20دسمبر 2060ء تک جاری رہیں گے۔

یہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کا دور ہے، اب حکومت کوئی بھی آئے پاکستان ترقی ہی کرے گا۔ 2026ء کا عدد ایک بنتا ہے جو طاقت اور شمس کا نمبر ہے۔ اب پاکستان کے حالات بہتر ہوں گے اور بے لاگ احتساب ہوگا۔ جو لوگ پاکستان کی ترقی کیلئے کام کریں گے وہ کامیاب ہوں گے۔بانی تحریک انصاف کادرست زائچہ 5 اکتوبر 1952ء، 11 بجکر45منٹ، لاہور کا ہے۔ ان کے زائچے میں لارڈ ستارہ مریخ ان کے پہلے گھر میں ہے جس کی وجہ سے ان کے لہجے میں تلخی ہے، اگر ان کے مشیر اچھے ہوتے تو آج حالات بہتر ہوتے۔ 2 جون 2026ء تک ستارہ مشتری ان کے زائچے کے ساتویں گھر میں ہے لہٰذا اس دوران ان کے لہجے میں لچک آئے گی، وہ بیک ڈور ڈپلومیسی سے معاملات بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔ مشتری روحانیت اور خوش بختی کا ستارہ ہے، انہیں اس سال ریلیف ملتا دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان کا موجودہ سیٹ اپ 14 سیاسی جماعتوں نے مل کر بنایا ہے۔ ہمارے موجودہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کے حلف کے وقت کے ستاروں کے حساب سے وہ مسلسل جدوجہد میں ہیں، ان کی مدت پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ پاکستان کے زائچے کے چوتھے گھر میں جوپیٹر اور مریخ کا مقابلہ جنوری میں ہونے جا رہا ہے، نومبر میں کیران ہوگا جو بہت ہی خراب ہے۔ ان مہینوں میں حکومت اور اپوزیشن کا دنگل ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز خوش بخت ہیں۔ ان کے والد پاکستان کے واحد خوش قسمت انسان ہیں جو تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم بنے ۔

ان کے چچا دو مرتبہ ملک کے وزیراعظم بنے۔ وہ خود پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں جو لوگوں کیلئے بہت کام کر رہی ہیںاور ایک خاتون ہوتے ہوئے اتنا ڈیلور کرنا قابل تعریف ہے۔ وزیراعظم بننے کیلئے ان کا مقابلہ بلاول بھٹو کے ساتھ ہے۔ مریم نواز کے حلف کا زائچہ زیادہ اچھا نہیں ہے، اگر وفاق متاثر ہوگا تو پنجاب پر بھی اثر پڑے گا۔ یہ سال وفاق میں تبدیلی کا ہوسکتا ہے۔ اگر موجودہ حکومت نے خلق خدا کیلئے کام کیا تو یہ نظام چل سکتا ہے۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اندرونی و بیرونی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔ آزادی سے لے کر آج تک ہمارے وسائل کم اور قرضے زیادہ رہے ہیں۔ پاکستان کیلئے زمین اپنے خزانے کھولتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ شاہ خرچیوں کو روکنا اور حکومتی اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر آمنہ طیبہ

پاکستان کے لیے سال کا آغاز کچھ مشکل رہے گا کیونکہ گزشتہ سال کے معاملات ہی آگے بڑھیں گے جبکہ اپریل، مئی سے حالات بہترہوجائیں گے۔ جون، جولائی، اگست میں کچھ غیر متوقع چیزیں رونما ہوسکتی ہیں، اگر حکومت نے ان پر درست اور بروقت فیصلے لیے تو معاملات حل ہوجائیں گے، تاخیر مناسب نہیں ہوگی۔ سال کا اختتام اچھے انداز میں ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان کے قرضے اور مہنگائی ، دونوں میں کمی ہوگی، ریاست پر بوجھ کم ہوگا۔ حکومت کے چہرے بدلتے دکھائی نہیں دیتے، انہیں مضبوط سپورٹ حاصل رہے گی۔ بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج کا کوئی امکان نہیں، چھوٹے احتجاج ہوں گے، اگر حکومت نے انہیں ٹھیک سے ڈیل کر لیتی ہے تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ عام آدمی کیلئے بھی یہ سال اچھا رہے گا۔ معاشی حالت بہتر ہوگی، کاروبار مستحکم ہوگا،سرکاری و نجی ادارے مضبوط ہوں گے، ترسیلات زر میں اضافہ ہوگا، ملک کی مجموعی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ پنجاب حکومت کی صوبے میں جڑیں مزید مضبوط ہوں گی، پنجاب کے لوگ حکومتی کارکردگی سے مطمئن ہوں گے۔ سندھ میں ترقیاتی کا موں کی ڈیمانڈ تیزی ہوگی جس کی وجہ سے سندھ حکومت کچھ رقم عوام پر خرچ کرے گی۔

خیبر پختونخوا میں صورتحال ایسے ہی رہے گی، باتیں تو ہوں گی لیکن زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ بلوچستا ن میں بعض معاملات پر کام ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ بھارت یا افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہے گا، جنگ کا کوئی امکان نہیں، ہلکی پھلکی جھڑپ ہوسکتی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان مزید مضبوط ہوگا۔ دنیا میں یہ تاثر مزید بڑھے گاکہ پاکستان نے بہت کچھ چھپا رکھا ہے، اس کی اصل طاقت بہت زیادہ ہے۔ 2026ء میں پاکستان کے دنیا کے ساتھ مزید بہتر تعلقات ہوں گے۔ 2026ء میں مریم نواز شریف مضبوط ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ انہیں اس سال میں بھی وفاقی حکومت، اداروں اور سٹیک ہولڈرز کی سپورٹ حاصل رہے گی۔ بلاول بھٹو زرداری بظاہر مضبوط کردار کے طور پر نظر آرہے ہیں لیکن انہیں اس سال بہت کام اور پلاننگ کی ضرورت ہوگی۔

آصف علی زرداری بعض معاملات میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہوسکیں گے، ان کے کردار کو سراہا جائے گا اور وہ فرنٹ پر نظرا ٓئیں گے۔ اس سال میں سیاسی حوالے سے خصوصاََ حکومت کی تبدیلی کے بارے میں قیاس آرئیاں بہت ہوں گی لیکن یہی سسٹم چلے گا، پیپلز پارٹی کو اپنے وزیراعظم کیلئے اس سال صرف انتظار ہی کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے کارڈز مزید مضبوط ہوتے دکھائی دیتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ کھل کر بولیں گے اور ان کا لہجہ جارحانہ ہوگا، عالمی رابطے ان کی طاقت بنیں گے۔

معاملات کو سدھارنے میں موجودہ حکومت سنجیدہ نظر آتی ہے، حکومت کو طاقت کے مرکز کی سپورٹ اور اعتماد حاصل رہے گا، تعاون کے ساتھ معاملات آگے بڑھیں گے۔ سال کے آغاز میں ہی بانی پی ٹی آئی کے خیرخواہ ان کی رہائی کیلئے سازگار ماحول بنانے کی کوشش کریں گے لیکن اس کے لیے جن معاملات پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا وہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، بانی تحریک انصاف اپنی انا کی قربانی نہیں دیں گے۔

اگر سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کی گئی تو شاید کچھ بدل جائے ، فی الحال رہائی نظر نہیں آرہی۔ یہ صرف بحث ہی رہے گی۔ خواتین کے حوالے سے نئے سال کے اختتام تک اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ سال کے آخری تین مہینے ملک کی اندرونی صورتحال کی بہتری کے ہوں گے۔ موسم کے حوالے سے کچھ مشکل نہیں ہے، برسات کے دنوں کی بہتر مینجمنٹ کی گئی تو کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔

سید مصور علی زنجانی

پاکستان کی خوشحالی اور تعمیر و ترقی کے 36 سال دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ ان برسوں میں کوئی بھی سیاسی حکومت ہو، جمہوریت ہو یا آمریت، چاہے ایمرجنسی ہو، پاکستان ہر حال میں ترقی کرے گا۔ یہ دور ملک اور بیرون ملک دشمنوں کی صفائی کا ہے، یہ عمل زور و شور سے جاری رہے گا۔ ہم گزشتہ برسوں سے آسمانی کونسل پر زائچہ پاکستان کے ادوار سیارگان سے 19 سالہ اچھے دور اور استحکام پاکستان کی پیش گوئی کرتے چلے آرہے ہیں۔

پاکستان کے زائچے میں 11 دسمبر 2024ء تا 11 دسمبر 2043ء تک زحل کی مہادشہ کا دور ہے۔ استحکام پاکستان کا عملی مظاہرہ 2025ء کے پہلے کوارٹر سے اب تک ہو رہا ہے۔ معرکہ حق مئی 2025 ء کے بعد سے بین الاقوامی عزت و توقیر، معیشت میں بتدریج بہتری ، دوست ممالک سے تجارتی، ثقافتی اور عسکری معاہدوں نے عالمی سطح خصوصاََ مسلم اُمہ میں پاکستان ممتاز مقام حاصل کر چکا ہے۔ پاکستان کے سبب ہی امریکا ، قطر سے دفاعی معاہدہ کر پایا ہے۔ مہادشاہ زحل کے بعد 17 سالہ دور عطارد جو زائچہ پاکستان کی معیشت، شعور وادراک، دوسرے پانچویں اچھے گھر کا مالک ، 11 دسمبر 2043ء تا 11 دسمبر 2060 ء تک رہے گا۔

ستارہ زحل زائچہ پاکستان میں نویں دسویں سعد گھروں کا مالک قانون، مذہب، عدلیہ، خارجہ پالیسی اور ملکی عزت و وقار جبکہ مزید نیا 17 سالہ دورعطار دوسرے گھر ملکی معیشت، فنانس، تجارت، کرنسی کے استحکام اور پانچویں گھر سٹاک ایکسچینج، اضافی آمدن، سوسائٹی اور آداب معاشرت سے تعلق ہونے کے ساتھ پہلے سے بنائے گئے آداب قوانین پر عملدرآمد میں اضافہ اور معاشرتی رہن سہن صوبوں کے اتفاق و ایثار جذ بہ قربانی میں اضافہ ہوگا۔ملکی سیاست کی بات کریں تو 26 دسمبر 2025ء تا 25 جنوری 2026ء کے دور قمر میں حکومتی کا بینہ میں تبدیلیاں، ممبران اسمبلی کے مابین مخالفت، تنازعات اور نا اتفاقی کا ہونا دکھائی دیتا ہے۔ 2026ء اور 2027ء میں خیر و برکت کا ستارہ مشتری بارہ سال بعد اپنے شرفی برج سرطان میں2027ء تک بار بار رہے گا، ان ادوار میں ہمارے پڑوسی ممالک چین، افغانستان اور ایران سے مزید خوشگوار تعلقات ہوں گے۔

اس عرصہ میں بھارت کی سیاسی قیادت بھی پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے پر مجبور ہوگی، انہی ایام میں سی پیک منصوبہ مکمل ہو کر فعال ہوتا دکھائی دیتا ہے۔تمام تر رکاوٹوں کے باوجد دہشت گردی کا خاتمہ عمل میں آئے گا۔ اندرون ملک ٹرانسپورٹ اور ریلوے کے نظام میں بہتری آئے گی، سی پیک منصوبے تحت نئی پٹڑیاں بچھائی جائیں اور ان کا دائرہ کار کراچی، گوادر سے ایران تک وسیع کیا جائے۔

متعلقہ محکموں میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگا، ملک میں نئی ایئر لائنز بھی اپنی پروازوں کا آغاز کریں گی۔ سیاحت وثقافت کے شعبوں کی کارکردگی کو بہتر کیا جائے گا، موسمیاتی تبدیلی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، اس حوالے سے بین الاقوامی تنظیموں سے روابط مضبوط اور انفارمیشن شیئرنگ بھی کی جائے۔ دوست ممالک سے خارجہ تعلقات میں مزید بہتری، سرکاری و تجارتی وفود کے تبادلوں میں اضافہ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، خلاء بازی، مشینری اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔ ملک کے دفاع کو مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانے کے لئے حکومت ہر وقت متوجہ رہے گی۔

دوست ممالک کے تعاون سے پہلے سے تیار شدہ دفاعی ساز و سامان کو مزید بہتر اور ایکسپورٹ کوالٹی کا معیار بلند کیا جائے گا۔نئے سال میں بھارت کا زوال نریندرمودی کے ہاتھوں دکھائی دیتا ہے۔ کانگریس و دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے نریندر مودی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جاسکتی ہے۔ بی جے پی کی حکومت کی تبدیلی اور کانگریس نواز سیاست دانوں کی مستقبل میں حکومت بننے سے ترقی مہاد شا مریخ میں انتر د شا مریخ 10 ستمبر 2025 تا6 فروری 2026 ء تک رہے گی۔ اسلحہ کی اندھا دھند خریداری میں بھارتی سیاست دانوں اور جرنیلوں کے اسکینڈل منظر عام پر آئیں۔

ایک ارب 45 کروڑ آبادی کے ملک میں علیحدگی پسند تنظیموں کا زور شروع ہو جائے گا اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی بھارتی سازشیں مکافات عمل کا شکار ہوں گی۔ بھارت کی سب سے بڑی اقلیت سکھ برادری کی خالصتان تحریک زور پکڑے گی اور کئی یورپی ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگی۔2026ء کا مفرد نمبر 1، ستارہ شمس اور عالمی لیڈروں سے منسوب شمس کا دوست ستارہ مشتری کے شرف یافتہ رہنے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دُنیا میں قیام امن کیلئے اپنی برتری کے ساتھ آمادہ ہونگے۔

جنگی جنون میں مبتلا امریکہ اگر باز آجائے تو 2026ء میں دُنیا میں امن قائم کرنے کیلئے چین اپنا عالمی امن کردار ادا کر سکتا ہے۔آنے والے برسوں میں چین عالمی امن، ترقی اور خوشحالی کا علمبراد بن کر ابھرے گا۔ 2026ء میں چین اور پاکستان کے تجارتی، ثقافتی خصوصاً عسکری تعاون میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان امریکی اثر و رسوخ میں کمی لاکر چین سے تعلقات میں اضافہ اورتعلقات کے توازن میں بھی کامیاب ہوگا۔ 

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پاکستان کے زائچے ان کے زائچے میں میں اضافہ ہوگا ہوتا دکھائی پاکستان کی عالمی سطح حوالے سے کا ا غاز کے ساتھ جائے گا کریں گے کا دور نہیں ا اس سال ہوں گے ہوں گی رہے گی سال کے رہے گا ملک کے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان