بلوچستان، 31 جنوری تک صوبے بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
محکمہ داخلہ نے تین روز کے تعطل کے بعد صوبے بھر میں ایک بار پھر دفعہ 144 نفاذ کر دیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ سکیورٹی صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان نے تین روز کے تعطل کے بعد ایک بار پھر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی مقامات پر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے دفعہ 144 کے تحت صوبے بھر میں مختلف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ ہو کر 31 جنوری 2026 تک جاری رہیں گی۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اسلحہ کی نمائش اور استعمال، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، گاڑیوں پر کالے شیشے لگانے، بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکل، عوامی مقامات پر ماسک، مفلر یا چہرہ چھپانے اور پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماعات، جلسہ، جلوس، ریلی اور احتجاج پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ محکمہ داخلہ نے تمام پولیس، لیویز اور فرنٹیئر کور اہلکاروں کو سختی سے ان احکامات پر عملدرآمد کی ہدایت کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔