راولپنڈی اور کوئٹہ میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، ماسک پرپابندی
اشاعت کی تاریخ: 4th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)حکومت بلوچستان نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ میں دفعہ 144 کی مدت میں ایک ماہ جبکہ ضلعی انتظامیہ نے راولپنڈی میں نافذ دفعہ 144 کی مدت میں مزید 7 روزکی توسیع کردی۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش و استعمال، خواتین و بچوں کے علاوہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، گاڑیوں پر سیاہ شیشوں کا استعمال، بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکلوں کی نقل و حرکت، پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات، جلوس یا ریلیاں، اور عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے کے لیے مفلر یا ماسک کے استعمال پر پابندی ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی 31 جنوری تک مؤثر رہے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں دفعہ 188 تعزیرات پاکستان سمیت دیگر قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب راولپنڈی میں نافذ دفعہ 144 کی مدت میں مزید سات روزکی توسیع کردی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 میں 7 جنوری تک توسیع کی گئی ہے،اس دوران جلسے جلوس، ریلیوں اور ہر قسم کے اجتماعات پرمکمل پابندی عائدہوگی، لاؤڈ اسپیکر،اسحلے کی نمائش پر بھی پابندی عائدکی گئی ہے۔ عائد
حکومت بلوچستان نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ میں دفعہ 144 کی مدت میں ایک ماہ جبکہ ضلعی انتظامیہ نے راولپنڈی میں نافذ دفعہ 144 کی مدت میں مزید 7 روزکی توسیع کردی۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت اسلحہ کی نمائش و استعمال، خواتین و بچوں کے علاوہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری، گاڑیوں پر سیاہ شیشوں کا استعمال، بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکلوں کی نقل و حرکت، پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات، جلوس یا ریلیاں، اور عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے کے لیے مفلر یا ماسک کے استعمال پر پابندی ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی 31 جنوری تک مؤثر رہے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں دفعہ 188 تعزیرات پاکستان سمیت دیگر قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب راولپنڈی میں نافذ دفعہ 144 کی مدت میں مزید سات روزکی توسیع کردی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 میں 7 جنوری تک توسیع کی گئی ہے،اس دوران جلسے جلوس، ریلیوں اور ہر قسم کے اجتماعات پرمکمل پابندی عائدہوگی، لاؤڈ اسپیکر،اسحلے کی نمائش پر بھی پابندی عائدکی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔