سوات، ٹریفک وارڈن پر تشدد، پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سوات پولیس کے مطابق سوات میں بشام چوک خوازہ خیلہ میں ٹریفک جام کے دوران پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی علی شاہ خان آپے سے باہر ہو گئے اور ڈیوٹی پر موجود ٹریفک وارڈن عزت علی پر تشدد کیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ٹریفک وارڈن پر تشدد کے واقعے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرلی گئی۔ سوات پولیس کے مطابق سوات میں بشام چوک خوازہ خیلہ میں ٹریفک جام کے دوران پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی علی شاہ خان آپے سے باہر ہو گئے اور ڈیوٹی پر موجود ٹریفک وارڈن عزت علی پر تشدد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ راہگیروں نے رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے وارڈن پر کی گئی مار پیٹ اور دھکے دینے کی ویڈیو بنا لی۔
پولیس نے بتایا کہ ٹریفک وارڈن عزت علی پولیس اسٹیشن خوازہ خیلہ ضلع سوات میں تعینات ہیں اور واقعے کے بعد علی شاہ خان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں بتایا گیا ہے کہ علی شاہ خان نے تھپڑے مارے اور دھکے بھی دیے اور محکمہ پولیس کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ بھی استعمال کرتے ہوئے گالم گلوچ کی۔ ٹریفک وارڈن نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی نے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی ٹریفک وارڈن علی شاہ خان سوات میں کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔