پشاور: فری اسٹائل پولو کے فائنل میں گلگت بلتستان نے چترال کو شکست دے دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
خیبر پولو فیسٹیول 2026 کا پہلا ایڈیشن تمام تر رعنائیوں کے ساتھ پشاور میں اختتام پذیر ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق فائنل میچ پولو کے روایتی حریفوں، چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیموں کے مابین کھیلا گیا۔
سنسنی خیز مقابلے میں گلگت بلتستان نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے چترال کو شکست دے کر فتح اپنے نام کی۔
فائنل میچ کے مہمانِ خصوصی کور کمانڈر پشاور تھے۔
تقریب میں خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں شائقین نے شرکت کی۔
پولو فیسٹیول کے دوران ثقافتی رنگ نمایاں رہے۔ چترالی ڈانس، روایتی لوک رقص اور میوزیکل پرفارمنس نے حاضرین کو محظوظ کیا۔
اس موقع پر نیزہ بازی کے روایتی کھیل کا شاندار مظاہرہ بھی پیش کیا گیا۔
حسبِ روایت پاک آرمی کے ایس ایس جی جوانوں نے فری فال جمپس کا مظاہرہ کیا۔
علاوہ ازیں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کے روایتی رقص بھی پیش کیے گئے، جن س حاضرین بے حد محظوظ ہوئے۔
کور کمانڈر پشاور نے فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں قومی ثقافت کے فروغ، نوجوانوں کی مثبت مصروفیات اور علاقائی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔