اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا التواکیخلاف جماعت اسلامی کا احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260105-08-26
اسلام آباد( نمائندہ جسارت) اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا التواکے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاجی مظاہرہ، احتجاجی مظاہرے میں اسلام آباد کے عوام مردو خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات میں اپنی شکست دیکھ کر راہ فرار اختیار کر رہی ہے، الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری ہوری کرتے ہوئے اسلام آباد میں الیکشن کرائے، کسی کو اسلام آباد کے شہریوں کے آئینی و جمہوری حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔احتجاجی مظاہرے سے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر صفدر، تاجر رہنما کاشف چودھری، چودھری ساجد اقبال گجر، ہما ایوب، راؤ جاوید اختر، میاں رمضان ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ حکومت اسلام آباد کے عوام کو ان کے جمہوری حق سے محروم رکھنے کے لیے حکومت سازش کر رہی ہے، حکومت کو بلدیاتی انتخابات میں اپنی یقینی ہار نظرآ رہی ہے، بلدیاتی انتخابات کا التوا عوام اور اسلام آباد سے دشمنی ہے، نصراللہ رندھاوا نے کہا کہ ایک ہی بیوروکریٹ اسلام آباد کے سیاہ وسفید کا مالک بنا ہواہے، اسلام آباد کے عوام تعلیم، صحت، سیوریج، پینے کے پانی، ٹریفک اور بجلی جیسے مسائل میں گھرے ہیں، اسلام آباد کی 50 فیصد آبادی کو بنیادی سہولیات سرے سے دستیاب ہی نہیں جبکہ اسلام آباد کے سیکٹرز میں عوام سہولیات سے محروم ہیں،انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے ایک سال میں 1200 ارب روپے کا ٹیکس جمع ہوا، آئین کے اندراسلام آباد کی حیثیت ایک صوبے کی ہے، جس شہر نے 12 سو ارب کا ٹیکس جمع ہو کیا اس کا این اہف سے ایوارڈ میں حصہ نہیں بنتا؟نصراللہ رندھاوا کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے کرپشن ڈویلپمنٹ اتھارٹی بن چکا ہے، الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد قانونی طور پر بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم نہیں ہو سکتی، اگر انتخابات ملتوی ہوئے توہم سمجھیں گے کہ الیکشم کمیشن بھی اس سازش کا حصہ ہے، الیکشن ملتوی ہوئے تو جماعت اسلامی ہر قدم اٹھائے گی، الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرائے، اسلام آباد کے بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم عوامی حقوق پر ڈاکہ ہے، اسلام آباد کے ٹک ٹاکر چیف کمشنر کو برطرف کر کے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دیئے جائیں، عوامی نمائندوں کے نہ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد مسائلستان بن چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات کا نصراللہ رندھاوا اسلام ا باد میں اسلام ا باد کے جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔