عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، علیمہ خان کا جیل کے باہر دعاؤں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک : عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف جیل کے باہر دعاؤں کے اہتمام کا اعلان کیا ہے۔
سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر عائد پابندیوں کے باعث اہلِ خانہ اور پارٹی حامیوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
علیمہ خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ منگل کو دوپہر ایک بجے اڈیالہ جیل کے باہر سورۂ یٰس ختم کا اہتمام کیا جائے گا۔
کراچی میں ایک اور ناخوشگوار واقعہ، 3 افراد کنوئیں میں گر گئے
ان کے مطابق اس موقع پر تمام شہدا، ناحق قید افراد اور ہر قسم کے ظلم و جبر کا سامنا کرنے والوں کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق عمران خان سے اہلِ خانہ، پارٹی رہنماؤں اور وکلا کی ملاقاتوں پر گزشتہ کچھ عرصے سے سخت پابندیاں عائد ہیں، جسے تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کا مؤقف ہے کہ ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا عمران خان کو تنہا کرنے اور دباؤ میں لانے کی کوشش ہے۔
پنجاب حکومت کا اس سال سیلابی خطرات سے بچاؤ کیلئے اہم فیصلہ
علیمہ خان کا کہنا ہے کہ دعاؤں کا یہ اہتمام پرامن اور مذہبی نوعیت کا ہوگا، جس کا مقصد ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور ناحق قید افراد کے لیے دعا کرنا ہے۔
انہوں نے کارکنان اور ہمدردوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن طریقے سے شرکت کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔