امریکا میں بھارتی خاتون قتل، سابق بوائے فرینڈ بھارت فرار
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
امریکا کی ریاست میری لینڈ میں ایک 27 سالہ بھارتی خاتون کو چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا، جبکہ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ قتل خاتون کے سابق بوائے فرینڈ نے کیا اور واردات کے بعد وہ بھارت فرار ہوگیا۔
ہاورڈ کاؤنٹی پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت نکیتھا گوڈیشالا کے نام سے ہوئی، جو ایلی کاٹ سٹی میں مقیم تھیں اور بطور ڈیٹا اینڈ اسٹریٹجی اینالسٹ کام کر رہی تھیں۔ نکیتھا کو نئے سال کی شب سے لاپتہ قرار دیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی لاش ارجن شرما نامی شخص کے اپارٹمنٹ سے برآمد ہوئی، جو ان کا سابق بوائے فرینڈ تھا۔ 26 سالہ ارجن شرما کے خلاف فرسٹ اور سیکنڈ ڈگری قتل کے الزامات کے تحت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ارجن شرما نے 2 جنوری کو پولیس کو اطلاع دی تھی کہ نکیتھا لاپتہ ہیں اور دعویٰ کیا تھا کہ اس نے انہیں آخری بار 31 دسمبر کو اپنے اپارٹمنٹ میں دیکھا تھا۔ تاہم پولیس نے 3 جنوری کو اسی اپارٹمنٹ پر سرچ وارنٹ پر کارروائی کی، جہاں سے نکیتھا کی لاش چاقو کے گہرے زخموں کے ساتھ برآمد ہوئی۔
پولیس کے مطابق ارجن شرما جس دن نکیتھا کی گمشدگی کی رپورٹ جمع کروائی اسی دن وہ بھارت جانے والی پرواز کے ذریعے امریکا سے روانہ ہو گئے۔
تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ قتل 31 دسمبر کی شام تقریباً 7 بجے کے قریب کیا گیا۔
تاحال قتل کی وجہ سامنے نہیں آ سکی، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں، ہاورڈ کاؤنٹی پولیس اب وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ملزم کی گرفتاری کے لیے کام کر رہی ہے۔
دوسری جانب بھارتی سفارتخانے نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مقتولہ کے اہلِ خانہ سے رابطے میں ہے اور ہر ممکن قونصلر معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔